3 جنوری 2015
وقت اشاعت: 21:35
نیشنل سیکیورٹی پلان پرعمل درآمد کرنا بھی ضروری ہے،سینئر تجزیہ کار
جیو نیوز - لاہور..........سینئر صحافیوں اور تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ نیشنل سیکیورٹی پلان کا پیش ہونا خوش آئند ہے لیکن اس سے بھی ضروری یہ ہے کہ ان 20نکات پر عمل درآمد کیا جائے، دہشت گردی اور انتہا پسندی کا مقابلہ کرنا صرف عسکری قیادت کی نہیں بلکہ سیاسی جماعتوں کی بھی ذمے داری ہے۔ ساؤتھ ایشین فری میڈیا ایسوسی ایشن کے زیر اہتمام نیشنل سیکیورٹی پلان کے حوالے سے لاہور میں سیمینار منعقد کیا گیا۔ شرکاء کہنا تھا کہ 20نکات پر سیاسی اور عسکری قیادت کا اتفاق ایک اچھا اشارہ ہے، لیکن اس سے بھی اہم یہ ہے کہ حقائق عوام کے سامنے لائے جائیں۔ سینئر صحافی حامد میر کا کہنا تھا سانحہ پشاور میں سیکیورٹی لیپس تھا، جس کی طرف توجہ دینے کی ضرورت ہے، 2009ء کا سوات فوجی آپریشن اس لئے کامیاب ہوا کیونکہ حقائق تک رسائی دی گئی تھی۔ تجزیہ نگار احمد رشید نے بھی پالیسیوں کی کامیابی عوام تک سچائی پہنچانے سے مشروط کی۔ سینئرقانون دان عابد حسن منٹو نے اس بات پر زور دیا سیاسی قیادت کو 20نکات پر عملدرآمد کے لئے اپنی جماعتوں کو متحرک کرنا ہو گا۔ سینئر صحافی نجم سیٹھی نے کہا کہ عسکری قیادت پر انحصار اس لئے بھی ہے کیونکہ وہ ادارہ بہت منظم ہے۔ سینئر صحافی امتیاز عالم کا کہنا تھا کہ دہشت گردی اور انتہا پسندی کے خلاف جنگ ایک غیر روائتی جنگ ہے، اسے روائتی طریقوں سے نہیں جیتا جا سکتا۔ سیفما کے سیمینار میں اس بات پر بھی بحث ہوئی کہ کیا اچھے طالبان اور برے طالبان کی پالیسی سٹیٹ نے تبدیل کی ہے یا اس پر ابھی کام جاری ہے۔