3 جنوری 2015
وقت اشاعت: 21:35
فوجی عدالت سے سزا یافتہ نے قومی اسمبلی میں فوجی عدالتوں کا بل پیش کیا
جیو نیوز - اسلام آباد.........فوجی عدالت سے سزا یافتہ شخص نے آج قومی اسمبلی میں فوجی عدالتوں کے قیام کا بل پیش کیا۔ 45سال پہلے نوجوان پرویز رشید پر ایک ڈکٹیٹر کے خلاف تقریر کا الزام تھا۔ آج وزیر قانون پرویز رشید نے دہشت گردوں سے نمٹنے کے لیے فوجی عدالتوں کے قیام کا بل پیش کیا۔آج سے 44برس پہلے دسمبر 1970ء کے آخری دنوں میں راولپنڈی کی سابقہ ڈسٹرکٹ جیل میں ایک نوجوان ہاتھوں میں ہتھکڑی پہنے کھڑا تھا، ایک کرنل، ایک میجر اور ایک سیشن جج پر مشتمل خصوصی عدالت اس کا مقدمہ سن رہی تھی۔ نوجوان پر الزام تھا کہ اس نے پنڈی کے لال کرتی بازار میں چیف مارشل لاء ایڈمنسٹریٹر جنرل محمد یحییٰ خان کے خلاف تقریر کی ہے۔ پیپلز پارٹی کے ڈپٹی سیکرٹری جنرل خورشید حسن میر نے اس کی وکالت تو خوب کی، مگر عدالت نے نوجوان کو 6سال قید بامشقت کی سزا سنا دی۔ اس نوجوان کا نام پرویز رشید تھا۔ اتفاق دیکھیے کہ 44برس بعد انہی پرویز رشید نے فوجی عدالتوں کے قیام اور ان کے اختیارات میں توسیع کے لیے قوانین کا مسودہ قومی اسمبلی میں پیش کیا۔ پرویز رشید اُس وقت 20سال کے نوجوان سیاسی کارکن اور نیشنل سٹوڈنٹس فیڈریشن کے صدر تھے۔ اس وقت فوجی عدالتوں سے تحریر اور تقریر کی آزادی کو کچلنے کا کام لیا جاتا تھا۔ آج وعدہ کیا گیا ہے کہ فوجی عدالتیں، انسانیت کے ان دشمنوں کو کیفر کردار تک پہنچائیں گی جو سزا کے خوف کے بغیر اپنی کارروائیاں کرتے ہیں۔