تازہ ترین سرخیاں
 تازہ ترین خبریں 
5 جنوری 2015
وقت اشاعت: 13:55

دنیا میں کہیں خواتین اور بچوں کو اعلانیہ نشانہ نہیں بنایا گیا، چوہدری نثار

جیو نیوز - اسلام آباد.........وزیر داخلہ چوہدری نثار نے کہا ہے کہ دنیا میں کہیں خواتین اور بچوں کو اعلانیہ نشانہ نہیں بنایا گیا، ہمارے حریف نے ہر حد پار کر لی، غیر معمولی حالات میں فوجی عدالتیں ناگزیر ہیں، فوجی عدالتیں ان لوگوں کے خلاف ہیں جنہیں بچوں اور خواتین کا بھی کوئی لحاظ نہیں۔قومی اسمبلی میں تقریر کرتے ہوئے وزیر داخلہ چوہدری نثار کا مزید کہنا تھا کہ فوجی عدالتوں میں ہر کیس چھان بین کے بعد ہی بھیجا جائے گا، دہشت گردی کے خلاف جنگ شروع ہوئی تو اس وقت کے ملک کے صدر کی حکمت عملی بہت متنازع تھی۔ انہوں نے کہا کہ ایوان میں21ویں آئینی ترمیم پربحث ہوگی،یہ ایک ایسی آئینی ترمیم ہےجوبظاہرجمہوریت اورپارلیمانی نظام سےمتضاد ہے، چندسال پہلےیہ وہم وگمان میں نہ تھا کہ فوجی عدالتوں کیلئے قانون سازی ہوگی،جمہوری نظام حکومت میں فوجی عدالتوں پراتفاق رائےانہونی بات ہے،پاکستان میں غیرمعمولی صورتحال ہےاس لیےیہاں تک پہنچےہیں، پاکستان کابچہ بچہ جنگ کی صورتحال سے دوچار ہے،جب دوقوتیں عسکری طور پر ٹکرائیں تو بےگناہ شہری بھی نشانہ بنتے ہیں،فوجی عدالتیں حالت جنگ میں بنتی ہیں اورہم حالت جنگ میں ہیں، کئی مثالیں ہیں کہ ججوں اور پولیس اہل کاروں کو دہشت گردوں کے دھمکی آمیز فون کال آ گئی،ہم ایسی حالت جنگ میں ہیں جس میں دوسرافریق ہر حد سے بالاتر ہے،فوجی عدالتوں کایہ مطلب نہیں کہ ہم ہرایک کولٹکاناچاہتےہیں،ہماری فوج آئینی وقانونی حدودکی پابندہے،اگرکسی کومارناہی مقصدہوتاتوہماری فوج پہلےہی ان کاکام تمام کرچکی ہوتی۔ چوہدری نثار نے کہا کہ سانحہ پشاورمیں 143شہادتوں کا غم اب تک تازہ ہے،میران شاہ سے اتنا بارود پکڑا گیا کہ 15سال تک روزایک دھماکا ہو سکتا تھا، ہم نے اصولوں پر چلنے کی بھاری قیمت ادا کی ہے، فوجی عدالتیں غیر معمولی حالات اور محدود وقت کے لیے ہیں،یہ پاکستان کےعام شہریوں کےلیےنہیں ہیں،پاکستان کی عدالتیں اپناکام کرتی رہیں گی،صرف دہشت گردوں کےمقدمات فوجی عدالتوں میں چلیں گے،فوجی عدالتیں کینگروکورٹ نہیں ہوں گی کہ جو گیا اسے لٹکا دیا گیا،ان میں تیزتر عدالتی کارروائی ہوگی،فوجی عدالتوں میں آئین کے مطابق مقدمات چلتے ہیں،ان کے جج بھی پاکستانی ہیں اور اللہ کا خوف رکھتے ہیں،جو کسی قسم کی دہشت گردی میں ملوث نہیں اسےڈرنےکی ضرورت نہیں،فوجی عدالتوں میں مقدمات بھیجنے سےپہلے حکومت چھان بین کرے گی،سیاسی جماعتوں نےبھی اتفاق رائےسےفوجی عدالتوں کافیصلہ کیا ہے،قوم متفق ہے کہ پاکستان کو دہشت گردوں سے بچانا ہے۔

متن لکھیں اور تلاش کریں
© sweb 2012 - All rights reserved.