7 جنوری 2015
وقت اشاعت: 19:19
جنرل آصف نے فخر امام کو وزیراعظم بنانے کی پیش کش کی،عابدہ حسین
جیو نیوز - اسلام آباد..........امریکا میں پاکستان کی سابق سفیر سیدہ عابدہ حسین نے کہا ہے کہ امریکی جمہوریت پسند ہیں لیکن اپنے مفاد کی خاطر امریکا جمہوریت سے نظریں چرا لیتا ہے۔ سیدہ عابدہ حسین نے نومبر1991ء سےاپریل 1993ء تک امریکا میں پاکستان کی سفیر کی حیثیت سےخدمات سرانجام دیں ۔ اس دوران وہ طاقت کے ایوانوں میں ہونے والے پس پردہ واقعات کی چشم دید گواہ رہیں ۔ اس کاتفصیلی تذکرہ انہوں نے اپنی تازہ تنصیف power failure میں کیاہے۔ انہوں نےانکشاف کیاکہ اس وقت کے آرمی چیف جنرل آصف نواز نے جب دورہ امریکاکیاتوامریکی وزیردفاع ڈک چینی نے انہیں دعوت دی کہ وہ پاکستان کےنیوکلئیرہتھیاررول بیک کردیں ا وراس کےعوض پاکستان میں منتخب حکومت کاتختہ الٹ دیں۔ جنرل آصف نواز نے ہمیں کہا کہ امریکی بڑے بد معاش ہن، توانوں پتہ ہے چینی نے مینوں کی کہیا، میں مسکرائی اور کہا کہ میرا اندازہ ہے کہ انہوں نے کہا ہوگا کہ ہتھیار دے دو اور اقتدار لے لو جنرل آصف چونکے اور کہنے لگے کہ توانوں دسیا ہے انہاں نے۔ میں نے کہا کہ نہیں میرا guess ہے ۔ انہوں نے کہا ہاں انہوں نے ایسا ہی کہا ہے۔ سیدہ عابدہ حسین کاکہنا ہے کہ جنرل آصف نواز نے امریکی وزیردفاع کی پیشکش ٹھکرادی۔ عابدہ حسین نے انکشاف کیا کہ 1990ءمیں پاک بھارت کشیدگی کے دوران امریکی سی آئی اے نے پاکستان کو بھارتی عزائم سے آگاہ کیا تھا۔ سیدہ عابدہ حسین سابق سفیرامریکا باب گیٹس نے بطور ڈائریکٹر سی ائی اے نے صدر غلام اسحاق خان کو ٹیلی فون کرکے خبردار کیا تھا کہ انڈیا نے نیوکلئیر سے لیس ہتھیار کشمیر کی سرحد پر تعین کیے ہیں۔ عابدہ حسین کایہ بھی کہنا ہے کہ وہ اپنی سفارت کاری کےدنوں میں ایک بارواشنگٹن سےپاکستان آئیں توآرمی چیف جنرل آصف نوازنےان کےشوہرفخرامام کووزیراعظم بنانے کی پیشکش کی لیکن انہوں نےیہ ٹھکرادی، ہورے نہیں تے میں فر میر بلغ شیر مزاری نوں بڑا لواں گا او وی چنگا بندہ ہے۔ کی خیال ہے؟ میں نے کہا کہ ہاں شریف آدمی ہے۔ سیدہ عابدہ حسین کا کہنا ہے کہ امریکی جمہوریت پسند ہیں لیکن اپنے مفاد کی خاطروہ بعض ریاستوں میں جمہوریت سےنظریں چرابھی لیتے ہیں ۔