15 جنوری 2015
وقت اشاعت: 20:24
این اے 122، تحقیقاتی کمیشن کی رپورٹ پر فریقین کا الگ الگ مؤقف
جیو نیوز - لاہور........حلقہ این اے 122لاہور کے تحقیقاتی کمیشن کی رپورٹ کو فریقین اپنے اپنے انداز میں بیان کر رہے ہیں۔ تحریک انصاف ان نکات کو انتخابی دھاندلی جبکہ اسپیکر قومی اسمبلی کے ترجمان پولنگ عملے کی غلطی قرار دے رہے ہیں۔ تحقیقاتی کمیشن کے جج 17جنوری کو الیکشن ٹربیونل لاہورکے روبرو اپنا بیان ریکارڈ کرائیں گے۔ لاہور کے حلقہ این اے 122 کے انتخابی ریکارڈ کی تحقیقات کرنے والے کمیشن کے جج غلام حسین اعوان کا کہنا ہے کہ حلقے کے کل 284 پولنگ اسٹیشنوں پر ڈالے گئے ووٹوں میں سے ایک لاکھ 80ہزار 115 ووٹ درست تسلیم کئے گئے۔کمیشن کی رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ 23 ہزار 639 کاوئنٹر فائل ایسی سامنے آئیں جو سرکاری عملے کی مہر اور دستخط کے بغیر تھیں۔4 ہزار 225 کاوئنٹر فائل پر دستخط اور 2 ہزار 283 کاوئنٹر فائل پر سرکاری عملے کی مہر نہیں تھی۔عمران خان کے وکیل کہتے ہیں کہ 30 ہزار 147 بیلٹ پیپرز کی کاوئنٹر فائل پر پولنگ عملے کے دستخط اور مہر نہ ہونے سے انتخابی نتائج مشکوک ہوگئے ہیں۔اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق کے صاحبزادے ڈاکٹر محمد علی صادق کہتے ہیں کہ سرکاری پولنگ عملے کی مہر اور دستخط کے بغیر والی کاؤنٹر فائل کوانتخابی دھاندلی کہنے کی بجائے اسے سرکاری عملے کی غلطی کہا جاسکتا ہے۔ الیکشن ٹربیونل لاہور نے تحقیقاتی کمیشن کے جج کو بیان ریکارڈ کرانے کے لئے 17 جنوری کو طلب کر رکھا ہے جس کے بعد سردار ایاز صادق اور عمران خان کے وکلاء تحقیقاتی رپورٹ پر اپنا اپنا مؤقف ٹربیونل کے سامنے پیش کریں گے۔ این اے 122 میں دھاندلی ہوئی یا نہیں اس سلسلے میں ٹربیونل کی طرف سے حتمی فیصلہ اگلے ماہ تک آنے کا امکان ہے۔