16 جنوری 2015
وقت اشاعت: 19:49
کراچی میں مظاہرے،فرانسیسی سفیر کو بلا کر معافی طلب کرنے کا مطالبہ
جیو نیوز - کراچی.........گستاخانہ خاکوں کی اشاعت کے خلاف کراچی میں بھی مذہبی اور سیاسی جماعتوں نے احتجاجی مظاہرے کئے۔مقررین نے مطالبہ کیا کہ فرانسسی سفیر کو بلا کر معافی طلب کی جائے مقررین کا کہنا تھا کہ پاکستان عالمی سطح پر توہین رسالت کو سب سے بڑا جرم اور دہشت گردی قرار دینے کیلئے اپنا کردار ادا کرے۔جماعت اسلامی کراچی کے تحت یونیورسٹی روڈ پر فرانسیسی میگزین میں گستاخانہ خاکوں کی اشاعت کے خلاف احتجاجی مظاہرہ کیا گیا۔ امیر جماعت اسلامی کراچی حافظ نعیم الرحمان نے اپنے خطاب میں وزیر اعظم نواز شریف سے مطالبہ کیا کہ فرانسسی سفیر کو طلب کرکے معافی منگوائی جائے اور گستاخانہ خاکوں کے خلاف عالمی سطح پر یوم احتجاج کے لیے وزیر اعظم اپنا کردار ادا کریں۔ ناگن چورنگی پر اہلسنت والجماعت کے تحت احتجاجی مظاہرہ کیا گیا جس سے خطاب میں مرکزی صدر علامہ اورنگزیب فاروقی کا کہنا تھا کہ گستاخانہ خاکوں سے مسلمانوں کے جذبات مجروع ہوئے ہیں انہوں نے مطالبہ کیا کہ توہین رسالت کو سب سے بڑا جرم اور دہشت گردی قرار دیا جائے۔ کراچی پریس کلب پر مختلف تنظیموں کی طرف سے احتجاجی مظاہرے کئے گئے۔جماعۃ الدعوہ کے تحت مظاہرے سے خطاب میں امیر کراچی ڈاکٹر مزمل اقبال نے کہا کہ آزادی اظہار کا مطلب یہ نہیں کے کسی کے مذہب کا مذاق اڑایا جائے ۔ سنی اتحاد کونسل کے مظاہرے میں مفتی شہزاد قادر نے مطالبہ کیا کہ پاکستان فرانس سے سفارتی سطح پر احتجاج کرے۔ انجمن طلباء اسلام کے احتجاجی مظاہرے میں سندھ کے ناظم محمد زبیر صدیقی نے کہا کہ ملک کی طلباء برادری گستاخانہ خاکوں کی اشاعت کی پر زور مذمت کرتی ہے ۔ سنی تحریک کے تحت بھی پریس کلب پر احتجاجی مظاہرہ کیا گیا۔گرومندر کنزلاایمان مسجد پر جمعیت علمائے پاکستان کے تحت مظاہرے سے خطاب میں شبیر ابوطالب نے مطالبہ کیا کہ وزیر اعظم پاکستان عالمی براداری پر دباؤ ڈال کے گستاخانہ خاکے سے متعلق قوانین اقوام متحدہ کے منشور میں شامل کرائیں۔ مجلس وحدت مسلمین کی جانب سے گستاخانہ خاکوں کیخلاف بعد نماز جمعہ کھارادر میں احتجاجی مظاہرہ کیا گیا۔