18 جنوری 2015
وقت اشاعت: 7:45
پی آئی اے کو نئی دلی آفس بند کرنے، عملے کو بھارت چھوڑنے کا حکم
جیو نیوز - نئی دہلی.........بھارتی حکام نے نئی دلی میں پاکستان انٹرنیشنل ایئر لائنز کے دفتر اور حکام پر چڑھائی کردی اور حکم جاری کردیا کہ دلی میں پی آئی کا دفتر نہ صرف فوری طورپر بند کردیا جائے بلکہ منیجر سعید احمد بھی فوری طورپر دلی چھوڑ دیں ۔ دلی میں پی آئی اے کا دفتر بند کیا جائے۔بھارتی حکام نے پی آئی اے نوٹس بھجوادیا ۔اسٹیشن منیجر سعید احمد کو فوری طور پر دلی چھوڑنے کا حکم دیا۔پاکستانی اسٹاف کے ویزوں میں توسیع سے انکار کردیا گیا۔بھارتی حکام نے یہ اقدامات پی آئی پر دلی میں غیر قانونی طور پر فلیٹس خریدنے کا الزام لگاکر اٹھائے ہیں۔ جبکہ درحقیقت فلیٹس اور دفاتر کا معاملہ ابھی عدالت میں زیر التوا ہے اور پی آئی اے حکام کے مطابق ساری خریداری بھارتی قواعد و ضوابط کے تحت کی گئی ہے ۔معاملہ یہ ہے کہ پی آئی اے نے دو ہزار پانچ میں نئی دلی میں کھمبا روڈ پر چار فلیٹس خریدے تھے جن میں پی آئی اے کا دفتر بھی شامل تھا ، دو ہزار پانچ میں خریدے گئے ان فلیٹس پر بھارتی حکام نے گذشتہ سال پی آئی اے کو نوٹس بھجوایا کہ پاکستانی ادارے نے فلیٹس کی خریداری میں بھارتی قواعد ملحوظ خاطر نہیں رکھے ، اور اسی وجہ سے یہ خریداری غیر قانونی ہوگئی ہے ۔ پی آئی اے نے نومبر دو ہزار چودہ میں اس لیگل نوٹس کا جواب دیا جس میں کہا گیا کہ یہ پراپرٹی خریدتے وقت دو ہزار پانچ میں بھارتی حکام سے کلیرنس ملی تھی۔ تمام قواعد پورے کیے گئے اور سٹی بینک کے ذریعے ادائیگی کی گئی ۔ابھی یہ معاملہ عدالت میں زیر التوا ہے لیکن بھارتی حکام سے فیصلہ آنے تک صبر نہیں ہوا اور انہوں نے پی آئی اے کے دفاتر اور عملے پر چڑھائی کردی ۔ ذرائع کے مطابق پی آئی اے کے اسٹیشن منیجر سعید احمد کو ہراساں بھی کیا گیا اور عملے سے بھی کہا گیا کہ انہیں یہاں نہیں رہنے دیا جائے گا۔ ذرائع کے مطابق بھارتی حکام سیکریٹری خارجہ سطح پر ہونے والے مذاکرات کی منسوخی کےبعد سے دلی میں پی آئی اے کے دفتر کے پیچھے پڑے ہیں۔ اس وقت ہفتہ وار دو پروازیں لاہور سے دلی کے لیے جاتی ہیں ، اگر یہ آپریشن بند ہوا تو مسافروں کو واہگہ بارڈر کے ذریعے ہی آنا جانا پڑے گا۔ پاکستان کے خلاف بھارتی اشتعال انگیزی کا یہ واحد واقعہ نہیں ، گذشتہ کچھ عرصے سے سرحدوں پر فائرنگ ، پاکستانی حدود میں گولہ باری اور فلیگ میٹنگ کے نام پر رینجرز اہلکاروں کو بلاکر شہید کردینے کے واقعات سب کے سامنے ہیں ۔