20 جنوری 2015
وقت اشاعت: 10:55
پٹرول بحران ،غیر فعال اوگرا کو ذمہ دار ٹھہرادیا گیا
جیو نیوز - اسلام آباد......پٹرول بحران کی ذمہ داری آئل اینڈ ریگولیٹری اتھارٹی پر ڈال دی گئی ہے جو کئی ماہ سے ممبرز نہ ہونے کی وجہ غیر فعال ہے۔ متعدد بار سمری بھیجے جانے کے باوجود حکومت کی طرف سے تقرری نہ کی گئی۔بجلی ، گیس اورسی این جی کے مسائل توپہلے سےموجودتھے۔ اب شہریوں کوپٹرول کےحصول کیلئےبھی قطاروں میں لگنا پڑا توحکومت نے ذمہ داروں کاتعین کرنے کی ٹھان لی۔ تحقیقاتی کمیٹی بنی ا وراس سے بھی پہلے وفاقی سیکرٹری پٹرولیم اور چیئرمین پی ایس او کو معطل کر دیا گیا۔تحقیقاتی کمیٹی نے چاراعلیٰ افسروں کی تقررری درست قراردےدی اورپٹرول بحران کی ذمہ داری اوگراپربھی ڈال دی ۔ جی ہاں! وہی اوگرا جس کےایک چیئرمین اورتین ممبرز ہوتے ہیں لیکن یہ ادارہ صرف چیئرمین اور ایک ممبر کے ساتھ کام کر رہا ہے۔ ممبر آئل اور ممبر فنانس موجود نہیں ہیں۔ذرائع کے مطابق اوگرا گزشتہ سال جولائی سے مکمل طور پر غیر فعال ہے جب ممبر آئل صابر حسین چار جولائی 2014 کو ریٹائرڈ ہو گئے ۔ممبر آئل کی تقرری کے لئے سمری کئی بار وزارت پٹرولیم اور وزیر اعظم کو بھجوائی گئی، اورکئی با ریاد دہانی بھی کرائی گئی لیکن جواب ندارد، اسی طرح ممبر فنانس کمال مری بھی عرصہ دراز سے اپنے دفترکاررخ نہیں کررہے ، وجہ یہ ہے کہ سابق چیئرمین اوگرا توقیر صادق کے خلاف بدعنوانی اور اختیارات کے ناجائز استعمال کے مقدمے میں وہ شریک ملزم ہیں اورنیب ان کے خلاف تحقیقات کر رہا ہے ۔اوگرا آرڈیننس کے تحت چیئرمین اور ممبرز کی تقرری وفاقی حکومت مخصوص مدت کےلیے ایک مسابقتی عمل کے ذریعے کرتی ہے جس کے بعد کابینہ ڈویژن تقرری کی سمری منظوری کے لیے وزیر اعظم کو بھیجتا ہے لیکن اوگرا کو مکمل کرنے کی ضرورت محسوس ہی نہیں کی گئی ۔ یوں تین میں سے اگر دو ممبرز موجود ہی نہ ہوں تو بطور ریگولیٹرز اوگرا کیا ذمہ داریاں سر انجام دے سکتا ہے ؟یہ اندازہ لگانا مشکل نہیں لیکن پھر بھی کہا جاتاہے کہ حکومت کے خلاف سازش ہوئی ہے۔