3 اکتوبر 2015
وقت اشاعت: 20:59
کراچی میں جائیداد کے اصل کاغذات ملکیت کی ضمانت نہیں رہے
جیو نیوز - کراچی.......کراچی میں جائیداد کے اصل کاغذات ، ملکیت کی ضمانت نہیں رہے،ثبوت ہے اکبر روڈ پر درجنوں فلیٹوں اور دُکانوں پر مشتمل عمارت، جس کے مالک کو نوٹس آیا ہے کہ یہ منافع بخش جائیداد اب اس کی نہیں رہی۔
کراچی کے کمرشل علاقے اکبر روڈ پرواقع بلڈنگ نمبر 345، 34 فلیٹس اور 24دکانوں پر مشتمل اور اس منافع بخش عمارت کے مالک ہیں عرفان احمد، مگر 21 ستمبر لیکر آیا ان کیلئے دل کی دھڑکنیں ساکت اور رگوں میں خون جمادینے والا سرپرائز، اس بے چارے کو پتہ بھی نہ چلا کہ عمارت کب، کس نے اور کہاں ،کسی اور کے نام کردی۔
جعل سازی کچھ یوں ہوئی کہ دو وکیلوں موسیٰ بلوچ اور شمشاد علی نے فیروز آباد تھانے میں مالک کی غیر موجودگی میں مکان کے کاغذات کھونے کی رپور ٹ درج کرائی اور ستم ظریفی دیکھئے کہ اصل مالک سے رابطہ کئے بغیربورڈ آف ریونیو کے مائیکرو فلمنگ ڈپارٹمنٹ نے عمارت کے کاغذات غیر متعلق فریق ،یعنی موسیٰ بلوچ کے حوالے کر دیے۔
ایک اور تماشا یہ کہ پراپرٹی صدر میں واقع ہے مگر اسکی جنرل پاور لانڈھی ٹائون کے طارق حسنی نےیامین وسیم کے نام کر ڈالی، وہاں سے صدر ٹائون کے منٹھار زرداری نے عبدالحفیظ کے نام جبکہ صدر ٹائون ہی میں انہیں سب لیز کے ذریعے 56 مختلف افراد کو فروخت کر دیا گیا۔
کیا عرفان احمد کو انصاف ملے گا؟ اس کا جواب ہنسی کی صورت میں بھی نکل سکتا ہے اور آنسوئوں کی صورت میں بھی، تاہم اس "واردات" کے بعد شہری اس شک میں ضرور مبتلا ہوگئے ہیں کہ ملکیت کے کاغذات ہونے کے باوجود اُن کی دُکان یا مکان کسی اور کا تو نہیں ہوگیا۔