6 اکتوبر 2015
وقت اشاعت: 8:43
جہالت کے اندھیرے میں تعلیم کے چراغ جلاتی :اللہ بچائی / عاصمہ ابڑو
جیو نیوز - کراچی......ساگر سہندڑو......صوبہ سندھ میں جہاں ملک کے دیگر صوبوں کے مقابلے اسکول نہ جانے والے بچوں کی تعداد کہیں زیادہ ہے وہیں بند پڑے اسکولوں کی تعداد بھی دیگر صوبوں کے مقابلے دگنی ہے لیکن پھر بھی سندھ کی بہادر بیٹیاں صوبے میں تعلیم کی ابتر کارکردگی بہتر بنانے کے لئے پر عزم ہیں۔
انہی میں سے ایک نام اللہ بچائی اور دوسرا نام عاصمہ ابڑو کا ہے۔ ضلع سانگھڑ کے نواحی شہرکھڈڑو کے گاؤں فقیر کی کھوہی سے تعلق رکھنے والی35سالہ اللہ بچائی چانہیودونوں ٹانگوں سے معزور ہونے کے باوجود گزشتہ دس سالوں سے بند پڑے اسکول کو کھلوا کر بچوں کو پڑھانے میں مصروف ہیں۔ معزور اللہ بچائی نہ صرف سرکاری مشینری کے مقابلے میں بہتر کام کر رہی ہے بلکہ وہ پورے سماج کے لئے اعلیٰ مثال بھی ہیں۔
علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی سے گریجویشن کرنے والی اللہ بچائی کو این سی ایچ ڈی کے تحت ماہانہ ڈھائی ہزار روپے دیئے جاتے تھے جو کچھ مہینوں سے بڑھا کر چار ہزار روپے ماہانہ کے حساب سے تین یا چار مہنیوں کے بعد دیئے جاتے ہیں۔ اللہ بچائی کی خبر میڈیا پر آنے کے بعدحکومت نے انہیں سندھ اسمبلی بلاکر خراج تحسین تو پیش کیا لیکن تعلیم کے چراغ روشن کرتی اس بیٹی کو سرکاری نوکری اور دیگر مراعات دینے سے محروم رکھا گیا۔
اللہ بچائی کے بھائی انور حسین نے ’جنگ ‘کو بتایا کہ اللہ بچائی نے پیسوں کی غرض سے نہیں بلکہ تعلیم کو عام کرنے کے غرض سے اسکول میں پڑھانا شروع کیا ہے۔اسے خاندان اور گاؤں والے قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں جبکہ پورہ علاقہ ان کی عزت کرتا ہے۔“
آئین و قانون بنانے والے صوبے کے سب سے طاقتور ادارے سندھ اسمبلی میں سب سے کے سامنے اللہ بچائی سے حکومت نے وعدے تو بہت سارے کئے لیکن آج تک کوئی ایک وعدہ بھی پورا نہیں ہوا۔
عاصمہ ابڑو
تعلیم کی بہتری کے لئے کام کرنے والی بہادر لڑکیوں میں باڈھ کے گاؤں گابر مسن کی گریجویٹ عاصمہ ابڑو بھی ہیں جنہوں نے حال ہی میں گاؤں میں قائم سرکاری اسکول کے ایک کلاس روم میں بچیوں کو پڑھانا شروع کیا ہے ، عاصمہ کے اس جذبے سے نہ صرف اسکول کے استاد بھی خوش ہیں بلکہ علاقے کے افسران اور گاؤں والے بھی عاصمہ کی ہمت افزائی کر رہے ہیں۔
’جنگ‘ کے نمائندے کو ملنے والی معلومات کے مطابق عاصمہ ابڑو اس وقت صبح میں بچیوں کو پڑھانے کے بعد شام کے اوقا ت میں شہید بے نظیر بھٹو لا کالج سے ایل ایل بی کی کلاسز بھی لے ر ہی ہیں۔ عاصمہ کے والد جو ایک نان کیڈر سرکاری ملازم ہیں وہ اپنی بیٹی کے تعلیمی عام کرنے کے جذبے سے بے حد خوش ہیں۔
سندھ میں جہاں گھوسٹ اساتذہ کی تعداد ہزاروں میں ہے وہیں عاصمہ ابڑو اور اللہ بچائی جیسے کردار اداکرنے والی خواتین حکومتی مراعات کے بغیر جہالت ختم کرنے کے لئے اپنی تمام توانائیاں بروئے کا ر لا رہی ہیں۔
سندھ حکومت اگر ان تمام باہمت خواتین پر تعلیمی بجٹ کا ایک فیصد حصہ بھی خرچ کرے تو یہ خواتین سینکڑوں استادوں کے مقابلے اچھے نتائج دیں گی۔