تازہ ترین سرخیاں
 تازہ ترین خبریں 
8 اکتوبر 2015
وقت اشاعت: 8:3

تعلیمی بہتری کیلئے کوشاں سندھ کی حوصلہ مند خواتین

جیو نیوز - کراچی......ساگر سہندڑو......سندھ میں ابترتعلیمی صورتحال کو بہتربنانے کے لئے کوشاں خواتین میں شمالی سندھ کے ضلع قمبر شہدداکوٹ میں تین فروری 1991ء کو جنم لینے والی بی بی باگڑی بھی شامل ہیں جو نہ صرف اقلیتی برادری سے تعلق رکھتی ہیں بلکہ ان کا تعلق سندھ کے ایسے علاقے سے ہے جہاں عورتوں کے لئے کام کرنا آسان نہیں ہے۔

بی بی باگڑی
بی بی باگڑی نے پرائمری تعلیم شاہ لطیف اقرا اسکول سے حاصل کی ۔ انہوں نے قمبر ہائی اسکول سے میٹرک کے بعدایک نجی اسکول میں بطور استاد پڑھانا شروع کردیا۔ غربت کے باعث وہ زیادہ تعلیم تو حاصل نہیں کر پائیں لیکن انہوں نے جلد ہی نجی اسکول کو خدا حافظ کہہ کر غریب بچوں کو پڑھانا شروع کردیا۔

بی بی باگڑی نے جنگ کو بتایا کہ انہوں نے ٹی ایم او قمبر سمیت دیگر افراد کے مالی تعاون سے پانچ کمروں کی عمارت کرائے پر حاصل کرکے سنت ہیرا لعل کمیونٹی اسکول کی بنیاد ڈالی ہے جس میں اس وقت چار سو کے قریب بچے تعلیم حاصل کر رہے ہیں لیکن حکومت کی جانب سے آج تک کوئی بھی مدد نہیں کی گئی۔

حاکم زادی
ضلع مٹیاری کے نواحی شہر اڈیرو لعل کے گاؤں علو پلیجو کی حاکم زادی تو اپنے گاؤں سے دو کلو میٹر دور پیدل جا کر بچوں کو پڑھاتی ہیں۔وہ گزشتہ 9سالوں سے بغیر تنخواہ پڑھا رہی ہیں جبکہ سندھ میں ہزاروں اساتذہ سرکاری تنخواہ لینے کے باجود اسکول نہیں آتے۔

انٹر پاس حاکم زادی شادی شدہ ہیں ، ان کے دو بچے بھی ہیں، حاکم زادی کے شوہر رینجرز میں اپنی خدمات سر انجام دے رہے ہیں جو نہ صرف حاکم زادی کی اخلاقی حمایت جاری رکھے ہوئے ہیں بلکہ وہ خود بھی غریب بچوں کو پڑھانے کے لئے اپنی بیوی کو اسکول چھوڑ کر آتے ہیں۔

حاکم زادی نے برابر والے گاؤں کے بند پڑے سرکاری اسکول کو نہ صرف آباد کیا بلکہ سینکڑوں بچیوں کومفت تعلیم دے کر تنخواہ لینے کے باجوداسکول نہ آنے والے اساتذہ کے ضمیر کو بھی جھنجھوڑا ہے۔ میڈیا پر خبر آنے کے بعد ڈپٹی کمشنر مٹیاری نے حاکم زادی کی مدد کرنے اور علاقے میں تعلیم کی بہتری کیلئے کام کرنے کی یقین دہانی کروائی ہے۔

حسنیٰ عمرانی اور عائشہ لغاری
گھوسٹ اساتذہ اور گھوسٹ اسکولوں کی وجہ سے پورے ملک میں مشہور صوبہ سندھ میں تعلیم کی بہتری کے لئے کام کرنے والی بہادر بیٹیوں میں صحرائے تھر کی معزور حسنیٰ عمرانی اور عائشہ لغاری بھی شامل ہیں جو نہ صرف تھر جیسے قحط زدہ علاقے میں تعلیم پر کام کرکے بچوں کی زندگی بدلنے میں مصروف ہیں بلکہ وہ دنیا بھر میں تھر کی منفرد پہچان بھی بنی ہوئی ہیں۔

تھر میں جہاں لوگ پانی کے لئے ترستے ہیں وہاں غربت کے باعث تعلیم تو دور کی بات ہے لوگ اپنے پیٹ کی آگ بھی نہیں بھجا سکتے ، وہاں بغیر پیسوں کے غریبوں میں تعلیم کی روشنی پھیلانے کے لئے کسی پڑھے لکھے مرد کے بجائے کمزور اور معزور عورتوں نے خود کو وقف کردیا ہے۔

حلیماں
اسلام کوٹ کے نواحی گاؤں کمر ہاڑ کی میٹرک پاس حلیماں بھی ایسی باہمت لڑکیوں میں شامل ہے، 23سالہ حلیماں پولیو کی مریض ہیں جس کی وجہ سے ان کی دونوں ٹانگیں مفلوج ہوچکی ہیں، وہ چلنے پھرنے سے قاصر ہیں لیکن پھر بھی وہ گاؤں کے غریب بچوں کو پڑھانے میں مصروف عمل ہیں۔

گزشتہ پانچ سالوں سے حلیماں بھیل مویشی چارنے اور قالین بنانے والے بچوں کو جھوپڑا اسکول میں پڑھا رہی ہیں لیکن آج تک کسی بھی سماجی تنظیم اور حکومت کی جانب سے ان کی مدد کے لئے اعلان نہیں کیا گیا۔بھیل ، باگڑی ا ور کولہی جو اقلیتی ہندوبرادری کی کم ترین ذاتیں سمجھی جاتیں ہیں ان کی مفلوج خواتین ہی سندھ میں علم کی روشنی پھیلا رہی ہیں۔

حمیرا بچل
سندھ میں تعلیم عام کرنے والی کراچی کے مواچھ گوٹھ کی حمیرا بچل کو کون نہیں جانتا،پسماندہ علاقے میں رہ کر اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے سے لیکر بہتر تعلیم کے لئے معیاری ادارے قائم کرنے تک حمیرا نے بہت پیچیدہ اور تھکا دینے والا سفر کیا ہے جو اپنی مثا ل آپ ہے۔

اپنے خاندان کے ساتھ ٹھٹھہ کے نواحی علاقے ٹنڈو حافظ شاہ سے کراچی کے مواچھ گوٹھ منتقل ہونے کے بعد حمیرا بچل نے نہ صرف خود تعلیم حاصل کی بلکہ انہوں نے امریکن گلوکارہ میڈونا، بیونسے ، سندھ ایجوکیشن فاؤنڈیشن، وولکار ٹ فاؤنڈیشن اور سلیمانیہ ٹرسٹ سمیت دیگر اداروں کی مدد سے” ڈریم ایجوکیشن فاؤنڈیشن “ کی بنیادبھی رکھی۔

حمیرا بچل کی نگرانی میں چلنے والے اس چار منزلہ ادارے میں بیس کے قریب کمرے ، کمپیوٹر لیب، لائبریری اور پلے گراؤنڈ ہے جبکہ اس میں 1200سے زائد بچے تعلیم حاصل کر رہے ہیں، ادارہ بالغ افراد کو بھی تعلیم دیتا ہے، حمیرا بچل تعلیمی حوالے سے منعقد کئی عالمی کانفرنسز میں بھی شرکت کرچکی ہیں۔

حمیرا بچل کی زندگی پر نامور ہالی ووڈ اداکارہ سلمیٰ ہائیک نے ڈاکیومنٹری فلم ”حمیرا دی ڈریم کیچر“ بھی بنائی ہے جس کی ہدایات کاری آسکر ایوارڈ یافتہ شرمین عبید چنائے نے کی ہے۔

عوام کا کہنا ہے سندھ حکومت کوصوبے میں تعلیمی بہتری کے لئے کام کرنے والی ان تمام خواتین کونہ صرف اعزازات اور مراعات دینی چاہئے بلکہ حکومت ان تمام خواتین کو صوبے میں تعلیم بہتر کرنے کے لئے اعزازی سفیر بھی مقررکرے تا کہ ان خواتین کو ان کی عزت کے مطابق مقام مل سکے۔

متن لکھیں اور تلاش کریں
© sweb 2012 - All rights reserved.