تازہ ترین سرخیاں
 تازہ ترین خبریں 
10 اکتوبر 2015
وقت اشاعت: 18:3

پاکستان میں صحافیوں کے قتل کے 22 کیسز منطقی انجام تک نہیں پہنچ سکے

جیو نیوز - اسلام آباد....... صحافیوں کے تحفظ کیلئے کام کرنے والی تنظیم کمیٹی ٹو پراٹیکٹ جرنلسٹ یاسی پی جے نے دنیا بھر میں مقتول صحافیوں کے غیر حل شدہ کیسس سے متعلق تازہ رپورٹ جاری کر دی ہے۔ پاکستان کی گزشتہ سال والی نمبر 9 پوزیشن برقرار رہی۔

Getting Away with Murder کے عنوان سے جاری کردہ رپورٹ کے مطابق پاکستان میں صحافیوں کے قتل کے 22 کیسس منطقی انجام تک نہیں پہنچ پائے، ان میں سے تین رواں سال وقوع پزیر ہوئے۔ رپورٹ میں واضح کیا گیا کہ کیس خواہ جیو نیوز کے رپورٹر ولی خان بابر سے متعلق ہو یا کوئی اور،قاتلوں کا ناپکڑا جانا معمول کے مطابق رہا ۔

رپورٹ کے مطابق پاکستان اقوام متحدہ کے صحافیوں کے تحفظ سے متعلق پروگرام کو لیکر توجہ کا حامل ملک رہا لیکن باوجود کوششوں کے یہاں قاتلوں کے سزا سے بچ نکلنے کے رجحان میں کوئی قابل ذکر کمی نہیں آسکی۔ سی پی جے کی مرتب کردہ تازہ رپورٹ کے مطابق گزشتہ دس سالوں میں مقتول صحافیوں کے غیر حل شدہ کیسس کی صورتحال ان ممالک میں بدترین سطح پر رہی۔

پہلے نمبر پر افریقی ملک صومالیہ جہاں گزشتہ ایک دہائی کے دوران کوئی ایسا سال نہیں گزر ا جب کوئی صحافی قتل نا ہوا ہواور اس میں ملوث ایک بھی مجرم سزا تک پہنچا ہو۔اس حوالے سے دوسری نمبر پر بدترین صورتحال جنگ سے تباہ حال عراق میں رہیجہاں 10 سالوں میں 84 صحافی قتل کر دئیے گئے۔

صحافیوں کے لئے تیسرا بدترین ملک شام رہاجہاں گزشتہ تین سالوں میں مارے جانے والے صحافیوں کی تعداد 11 ہوچکی ہے۔ان ممالک میں صحافیوں کے قتل سے متعلق بیشتر کیسس کی فائلیں پولیس اسٹیشنوں یا عدالتی میزوں پر پڑی دھول کھا رہی ہیں۔پاکستان میں بھی صحافیوں کے کھلے عام دندناتے قاتلوں کو انکے انجام تک پہنچانے کے لئے کی گئیں کوششیں خاطر خواہ نتائج نہیں لا سکیں۔

لہٰذا سی پی جے کی تازہ رپورٹ میں پاکستان کی اپنی گزشتہ سال کی نویں پوزیشن پر برقرار ہے۔رپورٹ میں بھارت کو 15 واں نمبر دیا گیا ہے جہاں گزشتہ 10 سالوں میں 11 مقتول صحافیوں کے قاتل اپنے انجام تک نہیں پہنچ پائے۔

متن لکھیں اور تلاش کریں
© sweb 2012 - All rights reserved.