12 اکتوبر 2015
وقت اشاعت: 8:36
12 اکتوبر 1999، جمہوریت پر آمریت کا شب خون
جیو نیوز - کراچی......آج بارہ اکتوبر ہے۔ بارہ اکتوبر 1999 پاکستان کی سیاسی تاریخ وہ دن ہے جب جنرل پرویز مشرف کے طیارے کے مبینہ اغوا کی کوشش کو جواز بنا کر ، جمہوریت کی بساط لپیٹی گئی۔
12 اکتوبر 1999 دو تہائی اکثریت سے منتخب ہوکر وزیراعظم بننے والے نواز شریف ،کیلئے ایک نہ بھولنے والا دن، ا ُس وقت پرویز مشرف آرمی چیف تھے جو بیرونِ ملک دورے پر تھے، کہ وزیراعظم نواز شریف نے انہیں ریٹائر کرکے، ان کی جگہ اُس وقت کے آئی ایس آئی چیف، لیفٹیننٹ جنرل ضیاء الدین بٹ کو آرمی چیف مقرر کردیا۔مگر پرویز مشرف نے اس فیصلے کو رد کیا اور ان کے حکم پر پاک فوج کی ٹرپل ون بریگیڈ نے وزیر اعظم ہاوس پر قبضہ کر لیا۔
نواز شریف اور شہباز شریف سمیت کئی حکومتی شخصیات گرفتار ہو گئیں۔ نواز شریف پر آرمی چیف کا طیارہ اغواء کرنے کا مقدمہ چلایا گیا۔12 مئی 2000 کو سپریم کورٹ کے 12 رکنی بنچ نے بھی پرویز مشرف کے اقتدار پر قبضے کو جائز قرار دیا اور آئین میں ترامیم کی اجازت دے دی ، پھر پارلیمنٹ نے صدر مملکت کی حیثیت سے مشرف کے اقدامات کو آئینی قرار دیتے ہوئے ان کی منظوری بھی دی ۔
اس دوران نواز شریف اور شہباز شریف اہل خانہ کے ساتھ سعودی عرب چلے گئے۔ یوں سابق وزرائے اعظم محترمہ بے نظیر بھٹو اور میاں نواز شریف کی جلاوطنی کی وجہ سے جنرل پرویز مشرف بلا شرکت غیرے ملک کے حکمران رہے۔
تاہم مارچ 2007 میں اس وقت کے چیف جسٹس افتخار چوہدری کے ساتھ پیدا ہونے والے تنازع نے ملک میں سیاسی بھونچال کھڑا کر دیا۔ اسی دوران محترمہ بے نظیر بھٹو بھی جلا وطنی ختم کر کے وطن آگئیں۔
جنرل پرویز مشرف یہ سیاسی دباو ٔنہ سہہ سکے ۔ فروری 2008 کے انتخابات کے نتیجے میں پرویز مشرف کے حامیوں کو شکست ہوئی ۔اور پیپلز پارٹی نے نواز لیگ کی شراکت سے حکومت قائم کی۔پرویز مشرف اکتوبر 1999 کو اقتدار پر قابض ہوئے تاہم اُن کی کہانی 18 اگست 2008 کو اُن کے استعفیٰ پراختتام پزیر ہوئی ۔