12 اکتوبر 2015
وقت اشاعت: 10:59
یوگنڈہ میں مقیم پاکستانی شہری حکومتی و سفارتی سہولتوں سے محروم
جیو نیوز - کمپالا......عرفان صدیقی......یوگنڈہ میں مقیم 3ہزار سے زائد پاکستانی شہری حکومتی اور سفارتی سہولتوںسے محروم ہیں]انہیں اپنے مسائل کے حل کے لیے کینیا میں موجود پاکستانی سفارتخانے سے رابطہ کرناپڑتا ہے لیکن اس کے باوجود مسائل حل نہیں ہوپاتے۔ یہ بات پاکستان ایسوسی ایشن یوگنڈہ کے صدر شاہد علوی نے ’جنگ ‘سے گفتگوکرتے ہوئے کہی ۔
انہوں نے کہا کہ ”پاکستانی شہری یوگنڈہ میں پانچویں بڑے سرمایہ کار کی حیثیت سے کاروبار کررہے ہیں جبکہ دنیا بھر کے لوگ اورممالک یوگنڈہ میں ناصرف سرمایہ کاری کررہے ہیں بلکہ عالمی طاقتیں یہاں اپنے سفارتخانے بھی قائم کررہی ہیں لیکن پاکستان نے بجٹ میں کمی کی غرض سے نہ صرف اپنا سفارتخانہ بند کردیا ہے بلکہ اپنے شہریوں کو بھی تنہا چھوڑدیا ہے۔“
شاہد علوی نے کہا کہ ان کی ایسوسی ایشن اپنی مدد آپ کے تحت مسائل کے حل کے لیے بھرپورطریقے سے کوشاں ہے ۔
اس موقع پر یوگنڈہ میں پاکستان کے اعزازی قونصل ڈاکٹر بو نے کاٹاٹنبا نے کہا کہ یوگنڈ ہ کی حکومت پاکستانیوں کو پاکستان سے سفارتی تعلقات نہ ہونے کے باوجود ایئرپورٹ پر ویزے جاری کرتی ہے جبکہ پاکستان یوگنڈہ کے کاروباری افراد کو چھ چھ مہینے تک ویزوں کا اجراء نہیں کرتا جس سے دونوں ممالک کے تعلقات میں وہ گرمجوشی باقی نہیں رہتی جس کی ضرورت ہے۔ حکومت کو اس مسئلے پر فوری توجہ دینے کی ضرورت ہے ۔
ادھرپاکستان ایسوسی ایشن یوگنڈہ کے وائس چیئر مین غلام ربانی کا کہنا ہے کہ ان کی ایسوسی ایشن گاہے بگاہے یوگنڈہ کی حکومتی شخصیات سے ملاقات کرتی رہتی ہے اور جن مسائل سے بھی پاکستانی دوچار رہتے ہیں انھیں حل کرانے کوششوں میں مصروف عمل رہتی ہے۔
پاکستان ایسوسی ایشن یوگنڈہ کے انفارمیشن سیکریٹری عمران ندیم نے ’جنگ ‘ کو بتایا” یوگنڈہ میں مقیم پاکستانیوں کو سب سے اہم مسئلہ پاکستانی ائیرپورٹ پر درپیش رہتا ہے کیوں کہ شاید انہیں یہ معلوم نہیں کہ یوگنڈہ میں پاکستانیوں کو ’آن آرئیول‘ ویزا دیا جاتا ہے ۔ شاید یہی وجہ ہے کہ پاکستانی ائیرپورٹ چاہے وہ لاہور ہو یا کراچی یا اسلام آباد ، یہاں سے جانے والے پاکستانیوں کو روک کران سے سخت انداز میں پوچھ گچھ کی جاتی ہے۔ہماری گزارش ہے کہ اس حوالے سے جن مسافروں کے پاس مکمل دستاویزات ہوں ان سے نرمی برتی جائے اور نارواسلوک اختیار نہ کیا جائے۔