3 مئی 2016
وقت اشاعت: 9:45
کراچی 45 سال میں سمندر برد ہو جائے گا !
جیو نیوز - کراچی......ہوشیارخبردارنیشنل انسٹی ٹیوٹ آف اوشنوگرافی نے خبردار کیا ہے کہ کراچی کے 35 سے 45 سال میںمکمل طور پر ڈوب سکتا ہے۔
نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف اوشنوگرافی نے کہا ہےکہ ملیر کا کچھ حصہ پہلے ہی ڈوب چکا ہے، دیگر علاقے بھی آہستہ آہستہ سمندر برد ہورہے ہیں، فوری اقدامات نہ کئے تو مستقبل میں ساڑھے تین سےچار کروڑ افراد ماحولیاتی مہاجر ین بن سکتے ہیں۔
سال 2015ء موسمیاتی تبدیلیوں کے باعث ہزاروں اموات ، سیلاب ،،زلزلے، بدترین خشک سالی اورکراچی میںگزشتہ جون کے آخری ہفتے میں قیامت خیزگرمی کے باعث 1200 سے زائد ہلاکتیں ملک میںموسمیاتی تبدیلیوں کے واضح اشارے ہیں۔
اب تک جولوگ یہ سمجھتے آئے ہیں کہ آنے والے وقتوں میں ملک کو سب سے بڑا خطرہ دہشت گردی سے ہے ان کے لئے اطلاع ہے کہ سمندر کی سطح سالانہ 6ملی میٹر بلند ہورہی ہے۔ ضلع ملیر کے کچھ حصوں کی طرح ساحلی علاقوں کی زمین مسلسل سمندر برُد ہورہی ہے۔
نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف اوشنوگرافی کی رپور ٹ کے مطابق سمندر زمین کو یونہی کھاتا رہا تو کراچی کے پاس اپنے وجود کو لیکر صرف 35 سے 40 سال بچے ہیں ۔عالمی تھنک ٹینک جرمن واچ نے گلوبل کلائی میٹ رسک انڈیکس میں پاکستان کو ماحولیاتی تبدیلیوں کے باعث دنیا کے 10 سب سے غیرمحفوظ ممالک میں شمار کیا ہے۔
لیکن اس سے بھی خوفناک بات یہ ہے کہ 1945 کے سونامی کی طرح اگر کراچی کو خدانخواستہ کسی بڑی آفت کا سامنا ہوتا ہے تو ان ساڑھے تین سے چار کروڑ ماحولیاتی مہاجرین کا کیا بنے گا جنھیں آباد کرنے کے لئے پڑوسی ملکوں سے بھی کوئی فوری امید نہیں لگائی جاسکتی ہے۔ماہرین بار بار خبردار کر رہے ہیں کہ ماحولیاتی آلودگی کو سنجیدگی سے لیا جائے ، ورنہ نقصان ناقابل اندازہ اور ناقابل تلافی ہوگا۔