تازہ ترین سرخیاں
 تازہ ترین خبریں 
5 مئی 2016
وقت اشاعت: 2:5

کراچی میں امن سے متعلق پولیس رپورٹ پرسپریم کورٹ کا عدم اطمینان

جیو نیوز - کراچی…سپریم کورٹ کراچی رجسٹری میں کراچی بے امنی عملدرآمد کیس کی سماعت کے دوران عدالت نے آئی جی سندھ کی پیش کردہ رپورٹ پر عدم اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے ریمارکس دیے کہ آپ جس امن کا دعویٰ کر رہے ہیں وہ رینجرز کی وجہ سے ہوا۔رپورٹ عدالت کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کے مترادف ہے۔

کراچی بے امنی عملدرآمد کیس کی سماعت چیف جسٹس انور ظہیر جمالی کی سربراہی میں 5رکنی لارجر بینچ نے کی۔ اس موقع پر چیف سیکرٹری سندھ، سیکرٹری داخلہ، آئی جی سندھ اور رینجرز کے وکلا بھی موجودتھے۔ایڈووکیٹ جنرل نے پولیس رپورٹ پیش کی۔

آئی جی سندھ غلام حیدر جمالی نے عدالت میں بیان دیا کہ مجموعی طور پر امن و امان کی صورتحال بہت بہتر ہوگئی ہے۔ جسٹس امیرہانی مسلم نے ریمارکس میں کہا کہ بتائیں کتنے ملزمان پکڑے،کتنے ملزمان کے خلاف مقدمہ چل رہا ہے ؟

چیف جسٹس پاکستان انورظہیر جمالی نے آئی جی سے استفسار کیا کہ سال2015ءمیں 159 ٹارگٹ کلنگ ہوئیں ، کونسا مجرم پکڑا گیا؟ کتنوں کے خلاف چالان پیش ہوا،کتنے مقدمات کو انجام تک پہنچایا۔

چیف جسٹس پاکستان نے آئی جی سندھ کو ریمارکس میں کہا کہ آپ جس امن کا دعویٰ کر رہے ہیں وہ رینجرز کی وجہ سے ہوا ہے۔

آئی جی سندھ نے بیا ن دیا کہ پولیس نے بہت کام کیا،ایئرپورٹ حملہ کیس، صفورہ گوٹھ اور ڈاکٹر ڈیبرا لوبو کے ملزمان کو بھی پکڑا، آئی جی سندھ کے بیان پر جسٹس امیر ہانی مسلم نے آئی جی سندھ سے سوال کیا کہ شارٹ ٹرم کڈنیپنگ بڑھ گئی ہے،آپ کو معلوم ہے یہ کیا ہے۔ عدالت کے سوال پر آئی جی سندھ نے جواب دیا کہ میرے علم میں نہیں۔

جسٹس امیر ہانی مسلم نے کہا کہ تو آپ کو وردی میں رہنے کا بھی حق نہیں، اتنا بھی نہیں معلوم، شارٹ ٹرم کڈنیپنگ میں پولیس اہلکاروں کے بھی ملوث ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔چیف جسٹس پاکستان نے سوال کیا کہ پیرول پر رہا ہونے والوں کا کیا ہوا؟

پراسیکیوٹر جنرل نے عدالت کو بتایا کہ 70 میں سے 54 کیسز نمٹا دیے گئے، اکثر کیسز میں ملزمان بری ہوگئے،18 کو گرفتار کرکے جیل بھیج دیا گیا ۔

جسٹس امیر ہانی مسلم نے ریمارکس میں کہا کہ آپ کی رپورٹ آنکھوں میں دھول جھونکنے کے مترادف ہے، بتائیں مفرور ملزمان کو کیوں نہیں پکڑا؟

اس موقع پر عدالت میں رینجرز کی جانب سے بھی رپورٹ پیش کردی گئی۔ رینجرز رپورٹ میں بتایا گیا کہ 2015 ءمیں 1100سے زائد ملزمان پولیس کی ناقص تفتیش کی وجہ سے رہا ہوئے۔ رینجرز وکیل نے عدالت کو بتایا کہ انہیں 11پراسکیوٹرز دیے گئے ہیں ۔

چیف جسٹس نے چیف سیکریٹری سے سوال کیا کہ بتائیں رینجرز کی درخواست پر پراسیکیوٹرز کیوں تعینات نہیں کرتے،چھوٹی چھوٹی باتوں کو ایشو بناکر امن وامان کا بیڑا غرق کیاجارہاہے، بعد میں سماعت کل تک کیلئے ملتوی کردی گئی۔

متن لکھیں اور تلاش کریں
© sweb 2012 - All rights reserved.