6 مئی 2016
وقت اشاعت: 23:23
شہباز کی خالہ عائشہ کی مدعیت میں اغوا کا مقدمہ درج ہوا
جیو نیوز - لاہور...... 26 اگست 2011ء سابق گورنر پنجاب سلمان تاثیر کے بیٹے شہباز تاثیر اپنی گاڑی میں دفتر جانے کے لیے گھر سے نکلے۔ حسین چوک کے قریب ایم ایم عالم روڈ پر پہنچے تو نامعلوم افراد نے انہیں روک لیا۔ گاڑی سے نکالا اور اغوا کر کے لے گئے۔
اغواء کار دو موٹر سائیکلوں اور کالے رنگ کی ایک بڑی ڈبل کیبن گاڑی میں سوار تھے۔ اغواء کار شہباز تاثیر کو لے کر ڈیفنس کی طرف فرار ہوئے۔ پولیس نے مغوی شہباز کی خالہ عائشہ کی مدعیت میں اغواء کا مقدمہ درج کیا۔ذرائع کے مطابق اغواء کاروں کی تعداد چار تھی۔
تحقیقات کے لیے ایک جوائنٹ انویسٹی گیشن ٹیم بنائی گئی۔ شہباز تاثیر کی حفاظت پر مامور دو پولیس اہلکاروں سے بھی پوچھ گچھ ہوئی۔ شہباز تاثیر کے کاروباری گروپ کے جنرل منیجر حسنین جاوید کے مطابق شہباز تاثیر کی حفاظت پر پولیس کے علاوہ نجی گارڈ ز بھی تعینات تھے تاہم اغواء کے وقت وہ بغیر سیکورٹی سفر کر رہے تھے۔
ذرائع کے مطابق اغوا کار شہبا زتاثیر کو تشدد کا نشانہ بناتے رہے، جس کی تصاویر بھی منظر عام پر آئیں۔ ذرائع یہ بھی کہتے ہیں کہ شہباز تاثیر کو اغوا کاروں نے کچھ عرصے بعد بیچ دیا۔ پھر انہیں چار سے پانچ گروپوں کے ہاتھوں بیچا گیا۔ اغوا کاروں نے تاثیر فیملی کے گھر ایک ویڈیو بھی بھیجی، جس میں شہباز تاثیر کو رہائی کی اپیل کرتے دکھایا گیا۔ شہباز تاثیر چار بہن بھائی ہیں۔ ان کی شادی 2010ء میں ہوئی تھی۔