تازہ ترین سرخیاں
 تازہ ترین خبریں 
9 مئی 2016
وقت اشاعت: 15:2

سرفرازمرچنٹ کےبیان پرتحقیقاتی کمیٹی بنادی،چودھری نثار

جیو نیوز - اسلام آباد...... وفاقی وزیر داخلہ چودھری نثار نے کہا ہے کہ سرفراز مرچنٹ کے انٹرویو کی روشنی میں ایف آئی اے کی کمیٹی بنادی گئی ہے، تفتیش کے لیے سرفراز مرچنٹ کو سمن جاری کیے ہیں ، رابطے کی بھی کوشش کررہے ہیں۔

اسلام آباد میں نیوز کانفرنس میں چودھری نثار نے کہا کہ گزشتہ چند دن میں ایم کیو ایم کے حوالے سے مختلف پریس کانفرنسز اور بریفنگز کابہت شور و غل سنا ہے، جو کچھ میں نے کہا تھا اس پر باقاعدہ عمل درآمد شروع ہوچکا ہے،سرفراز مرچنٹ کی سہولت کے مطابق انہیں بلاکر بیان کی روشنی میں تینوں ایشوز پر بات کی جائے گی۔

چودھری نثار کا کہنا تھا کہ کمیٹی صرف سرفراز مرچنٹ کے بیان پر مخصوص نہیں ہے، منی لانڈرنگ ، را سے تعلقات یا اور کسی قسم کی سرگرمی جس کا تعلق جرم سے ہے اس پر کسی کے پاس بھی ثبوت ہیں تو کمیٹی کو دے، کسی کے پاس بھی ثبوت ہیں تو اپنی معلومات ایف آئی اے کی کمیٹی کو دے سکتاہے ، ہم نے تمام انٹیلی جنس ایجنسیز اور حکومت سندھ کو خط لکھا ہے کہ کوئی بھی اطلاع ہے تو اس کمیٹی سے شیئر کی جائیں۔

ان کا کہنا تھا کہ یہ انتہائی سنجیدہ معاملہ ہے ، کیسز اور اتنے سیریز کیسز ہوا میں نہیں بنتے ، لمبے چوڑے سیاسی بیانات اور پریس کانفرنسز سے کیسز کو منطقی انجام تک نہیں پہنچایا جاسکتا ، مجھے کہا گیا کہ سرفراز مرچنٹ کے بیان پر توکمیٹی بنادی لیکن مصطفیٰ کمال کے بیان پر کمیٹی نہیں بنائی، ایف آئی اے کی کمیٹی صرف ایگزیکٹ یا اس کیس پر نہیں بنی ، درجنوں معاملات پر بنی ہے، ہر روز ایک سیاستدان بیان دیتا ہے تو کیا میں ہر روز ایک کمیٹی بناؤں۔

چودھری نثار کا کہنا تھا کہ منی لانڈرنگ کیس جس کا مصطفیٰ کمال اور سرفراز مرچنٹ نے ذکر کیا ہے ، وہ لندن میں چل رہا ہے ، میرے شاید ایم کیو ایم سے سیاسی طورپر اچھے تعلقات نہ ہوں ، لیکن میری ذمہ داری ہے کہ ایم کیو ایم سے بھی انصاف ہو، یہ لوگ اس وقت چیختے چلاتے کیوں نہیں تھے جب پچھلی حکومتیں ایم کیو ایم کو اپنے ساتھ حکومت میں ملاکر بیٹھی تھیں۔

انہوں نے کہا کہ برطانوی حکومت سے بہت سی انفارمیشن شیئرنگ ہم نے کی، اگر ایف آئی اے کی کمیٹی کے پاس حقائق ہوئے ، کیس بنا تو پھر معاملہ آگے جائے گا، سرفراز مرچنٹ نے باقاعدہ ثبوت شیئر کیا کہ جو تفتیش اسکاٹ لینڈ یارڈ کی ہوئی ہے اس حوالے سے قوم کے سامنے نکات رکھے، سرفراز مرچنٹ کو پاکستان آکر بیان دینا چاہیے، میں اور حکومت ان کی سیکورٹی کی ضمانت دیتے ہیں ، اگر سرفراز مرچنٹ نے پاکستان آنے سے انکار کیا تو ہم برطانوی حکومت سے درخواست کریں گے۔

وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ ایف آئی اے کی کمیٹی کو دو ہفتے دیئے گئے ہیں، اس کے بعد اگلے مرحلے کا فیصلہ ہوگا ، کمیٹی کی ساری چیزیں پبلک ہوں گی، تمام الزامات جو لگائے گئے ہیں اس کے ملزمان پاکستان میں نہیں برطانیہ میں ہیں، منی لانڈرنگ کا پیسہ پاکستان نہیں آیا ، لندن گیا ، یہ اتنا آسان کام نہیں جتنا لوگوں نے سمجھ لیا، اگر ایف آئی اے نے فیصلہ کیا کہ تفتیش کو آگے بڑھایا جائے تو پھر یہ فیصلہ بھی دو ہفتوں میں کیا جائے گا کہ برطانیہ سے قانونی مدد باقاعدہ درخواست کریں۔

ان کا کہنا تھا کہ پہلے سرفراز مرچنٹ اور پھر دیگر اہم پلیئرز جو لندن میں ہیں، ان کے لیے برطانیہ سے قانونی مدد کی درخواست کافیصلہ کیا جائے گا ،یہ انتہائی سنجیدہ الزامات ہیں اور عدالتی کارروائی کے ذریعے ہی منطقی انجام تک پہنچ سکتے ہیں،آپ مجھ پہ اعتماد کریں کہ انصاف ہوگا ، سرفراز مرچنٹ صاحب سے ایف آئی اے کا ان ڈائرکٹ رابطہ ہوا ہے، سرفراز مرچنٹ نے جواب میں کہا ہےکہ قانونی ماہرین کے مشورے کے بعد پاکستان آنے کا فیصلہ کریں گے۔

متن لکھیں اور تلاش کریں
© sweb 2012 - All rights reserved.