9 مئی 2016
وقت اشاعت: 15:18
میں اپنے استعفے کا اعلان کرتا ہوں، افتخار عالم
جیو نیوز - کراچی....... متحدہ قومی موومنٹ کے ایم پی اے افتخار عالم نے ایم کیو ایم سے اپنے استعفے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ آج ہم مصطفیٰ بھائی اور انیس بھائی کے قافلے میں شامل ہورہے ہیں، میں اپنے استعفے کا اعلان کرتا ہوں ، متحدہ قومی موومنٹ اور الطاف حسین کو خیر باد کہتا ہوں ۔
کراچی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے افتخار عالم نے کہا کہ کارکنان اور ذمہ داران کے بہت بڑے طبقے میں یہی سوالات گردش کرتے ہیں لیکن خوف کا طلسم ٹوٹنے کانام نہیں لیتا تھا، میرے لیے ٹرننگ پوائنٹ تھا ، میں کل لیاقت آباد عوامی رابطہ مہم کے لیے گیا تو منافقت کرتےہوئے مجھے الطاف صاحب کی تعریف کرنا پڑرہی تھی۔
افتخار عالم کا کہنا تھا کہ معصوم کارکنوں کو اس جنگ میں جھونک دیا گیا جو کبھی لڑی ہی نہیں گئی، پہلے کہا گیا کہ منزل قریب ہے، پھر نعرہ بدل گیا کہ منزل نہیں رہنما چاہیے، الطاف حسین نے جب بھی فیصلے کیے اپنی تسکین کے لیے کیے ،انہوں نے ہمیشہ کارکنوں کو اکسایا۔
ان کا کہنا تھا کہ اٹھائیس سال ہوگئے کام کرتے ہوئے ، کب تک اپنی وفاداریوں کوثابت کرتے رہیں گے، اتنی قربانیاں دینے کے باوجود بھی ہم پر اعتماد نہیں تو ہمارا اس تحریک سے جڑے رہنا ٹھیک نہیں، سیکٹر اور یونٹ کی ذمہ داریوں پر رہا، گارنٹی سے کہہ سکتا ہوں کہ الطاف صاحب میرانام بھی نہیں جانتے ہوں گے۔
افتخار عالم کا کہنا تھا کہ ہم اپنے پیاروں کی لاشیں اٹھاتے تھے اور انہیں یہ بھی نہیں معلوم تھاکہ وہ جان کس بات پر دے رہے ہیں، انہوں نے بعض میٹنگز میں یہ بھی کہاکہ سب مرتے ہیں یہ ایم پی ایز اور ایم این اے کیوں نہیں مرتے ، تحریک کے لیے مارے گئے لوگوں کے ورثا سے صرف فوٹو سیشن ہوتا ہے اور کچھ نہیں۔
انہوں نے کہا کہ بڑے صاحب کو ہنسی آرہی ہے تو فنکشن کردو ، وہ پیسہ شہدا کے خاندانوں پر خرچ کردیتے تو بہت سی مشکلات دور ہوجاتیں، جب بھی بات ہوتی ہے ریاستی اداروں سے لڑوانے کی بات ہوتی ہے، ہم کہتے ہیں کہ محب وطن شہری ہیں ،عزت کے ساتھ جینا ہے، ساتھی خوف میں مبتلا ہوتے ہیں کہ بڑے صاحب تقریر کریں گے، پتہ نہیں اب کیا ہوگا،اس وقت اشد ضرورت ہے کہ وہ تمام لوگ جو اس چیز کو محسوس کرتےہیں کہ انہیں استعمال کیا جارہا ہے ، وہ موجود پلیٹ فارم پر آئیں۔
افتخار عالم کا کہنا تھا کہ یہاں نہیں آنا چاہتے تو وہاں جائیں جہاں جانا چاہتے ہیں لیکن وہاں سے نکلیں اوراپنی زندگیاں بچائیں، انہوں نے گزشتہ دنوں ایک تقریر میں خود کو بہت بڑا عالم دین قرار دیا، لوگوں سے کہاکہ اگر امت مسلمہ میں کوئی دین کو سمجھتا ہے تو وہ صرف تمہارا قائد ہے، ہم نے اندھا اعتماد کیا ، اپنی زندگی کی چابیاں آپ کے ہاتھ میں دے دیں،ہمیں قربانی دینےکے بعد بھی ثابت کرنا پڑتا ہے کہ ہم وفادار ہیں تو پھر لعنت ہے ہر چیز پر۔
افتخار عالم کا کہنا تھا کہ انا پرستی الطاف صاحب کے اندر سب سے زیادہ بھری پڑی ہے، بھائی کس حال میں خوش رہوگے ، کس طرح سے تسکین ملے گی ہمیں وہ چیز تو بتادی جائے ،کبھی نعرے لگانے پر ناراض ، کبھی خاموش رہنے پر ناخوش، لوگوں کو دھوکا دیتے ہیں ، کارکنوں کے کیسز کی پیروی کے لیے ، چند ایک کارکنوں کی پیروی کردی۔
ان کا کہنا تھا کہ اٹھانوے فیصد طبقے کی بات کرتے ہیں ، کس بنیاد پر ، اپنے کارکنوں اور اپنےشہدا کو نہیں پوچھ رہے، جہاں پوائنٹ اسکورنگ کرنی ہوتی ہے وہاں حکم آجاتا ہے کہ جنازہ جناح گراؤنڈ لے کر جانا ہے، بہت ہوگیا ، لوگوں کو اب ان چیزوں کی سمجھ بوجھ ہونی چاہیے، ابھی تو ہم نام نہیں لے رہے ، لیکن نہ کریں منافقت ، کم از کم اپنی قوم کے لیے کھڑے تو ہوں ، خیرباد کہیں ان کو اور آجائیں یہاں پر، استحکام پاکستان کے لیے یکجا ہوجائیں۔