12 جولائی 2012
وقت اشاعت: 21:46
پاور سیکٹر کو کل سے گیس کی یومیہ فراہمی 120 ملین مکعب فٹ کرنیکا اعلان
جیو نیوز - اسلام آباد … وزارت پیٹرولیم نے بجلی کی پیداوار بڑھانے کیلئے کل سے یومیہ 38ملین مکعب فٹ اضافی گیس دینے کا اعلان کیا ہے دوسری طرف واپڈا کا کہنا ہے 2019ء تک 10 ہزار میگاواٹ سے زیادہ بجلی سسٹم میں داخل کریں گے۔ یہ بات سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے پانی و بجلی کے اجلاس کو بتائی گئی، کمیٹی کا اجلاس اسلام آباد میں سینیٹر زاہدخان کی زیرصدارت ہوا۔ کمیٹی کو بریفنگ میں سیکریٹری پیٹرولیم ڈاکٹر وقار مسعود نے بتایا کہ کل سے پاور سیکٹر کو گیس کی فراہمی یومیہ 82ملین مکعب فٹ سے بڑھا کر 120ملین مکعب فٹ کی جار ہی ہے۔ سیکریٹری پیٹرولیم نے بتایا کہ ملک میں یومیہ 4 ارب 20 کروڑ مکعب فٹ گیس پیدا ہو رہی ہے جبکہ ضرورت 6 ارب 20 کروڑ مکعب فٹ ہے اور اگر تمام شعبوں کی ضروریات مکمل طور پر پوری کرنی ہوں تو 8 ارب 20 کروڑ مکعب فٹ گیس درکار ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ان حالات میں گیس درآمد کئے بغیر کوئی چارہ نہیں۔ انہوں نے بتایا کہ کوشش کی جارہی ہے کہ جلد 750 ملین مکعب فٹ گیس ایل پی جی ایئر مکس اور ایل این جی منصوبے کے ذریعے سسٹم میں شامل کی جائے۔ اس موقع پر سیکریٹری پانی و بجلی ظفر محمود نے بتایا کہ بارشوں سے حالات بہتر ہوئے ہیں اور بجلی کی پیداوار بھی 14 ہزار میگا واٹ ہوگئی ہے۔ چیئرمین کمیٹی زاہد خان نے ریمارکس دیئے کہ غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ ختم نہیں ہوئی، حکومت اور پارلیمنٹ بدنام ہورہے ہیں۔ واپڈا حکام نے کمیٹی کو بتایاکہ تربیلا ڈیم کے ڈیڈ لیول جو 1378 فٹ ہے، سلٹنگ کی وجہ سے 4 فٹ اضافے سے آئندہ ایک سال میں اسے 1382 فٹ تک لایا جائے گا۔ کمیٹی کو بتایا گیا کہ ای سی سی نے گیس فراہمی کی ترجیحات بدل کر گھریلو صارفین کے بعد پاور سیکٹر کو دوسری ترجیح بنایا ہے۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ کھاد کے شعبے کو گیس مکمل بند ہے، ضروریات پوری کرنے کیلئے کھاد درآمد کرنا ہوگی، 10 جولائی کو سینیٹ کی قائمہ کمیٹی کا اجلاس وزیر پانی و بجلی اور سیکریٹری پیٹرولیم اور سیکریٹری پانی و بجلی کی عدم شرکت کے باعث ملتوی کر دیا گیا تھا اور انہیں شوکاز نوٹس بھیجے گئے تھے جس کے بعد آج تمام حکام وقت سے کافی دیر پہلے ہی کمیٹی روم میں پہنچ گئے تھے۔