تازہ ترین سرخیاں
 تازہ ترین خبریں 
13 جولائی 2012
وقت اشاعت: 3:13

پاکستان میں لبرل طبقے کیلئے یہ وقت بہتر نہیں،امریکی اخبار’وال اسٹریٹ جرنل‘

جیو نیوز - کراچی …محمد رفیق مانگٹ…امریکی اخبار’وال اسٹریٹ جرنل‘ لکھتا ہے کہ یہ وقت پاکستان میں لبرل طبقے کے لئے بہتر نہیں ہے، سروے ظاہر کرتے ہیں کہ پاکستانی امریکا کو دشمن خیال کرتے ہیں۔جمہوریت ان چاہا تصور بن چکا ہے،شرعی قوانین کے نفاذ کے لئے بہت معمولی حمایت یا سوچ کی ضرورت ہیں۔ حالیہ دنوں میں عدلیہ نے منتخب وزیر اعظم کو اقتدار سے نکالنے ، عمران خان جیسے سیاستدانوں کا سامراج کے خلاف اور اسلامی خیالات کا وسیع پیمانے پر پرچار اوراردو زبان کے میڈیا کا قوم پرستی کے جذبات سے قوم کو مغلوب کرنے جیسے واقعات ملک پر چھائے رہے۔اخبار لکھتا ہے کہ اس طرح کے حالات میں دنیا پاکستانی لبرل طبقے کو مورد الزام نہیں ٹھہرا سکتی، پاکستان کے ساتھ نیٹو سپلائی بحالی کے بعد تعلقات کا نیادور شروع ہونے والا ہے جس میں پاکستان کا لبرل طبقہ داد کا مستحق ہیں۔اخبار سوال اٹھاتا ہے کہ کیا ایسی صورت میں مغرب ملٹری اور عمران خان جیسے دائیں بازو کے شدت پسندوں کے ساتھ کام کرے گا۔اخبار نے اس کا نفی میں جواب دیتے ہوئے کہا کہ مغرب کی ہمیشہ سے روایت رہی کہ جو کوئی طاقتور ہوتا اس کے ساتھ وہ کام کرتے رہے لیکن اب امریکا کے لئے ویسی صورت حال نہیں رہی۔پاکستان میں لبرل طبقے کو یہ بھی شکایت ہے کہ جمہوریت تو چار سال قبل آ گئی لیکن کوئی سویلین حکومت فوج کے بغیر اہم فیصلے ابھی تک نہیں لے سکتی ۔تاہم کوئی بھی سویلین حکومت حقیقی طور پر فوج پر اپنے احکامات نہیں ٹھونس سکتی جنہوں نے65سالوں میں34سال حکمرانی کی۔انڈونیشیاء اور ترکی میں جمہوریت کے پروان چڑھنے کے ساتھ وہاں کے سیاستدانوں نے اپنے کو منوایا اور جنرلوں پر کمانڈ کے لئے خود اعتمادی حاصل کی،تاہم یہ صبرآزما مراحل ہوتے ہیں ، صدر زرداری کی جماعت لبرل نظریات کے حامی ہونے کا دعوی کرتے ہوئے مذہبی رواداری اور جنوبی ایشیاء میں امن کی متمنی ہیں تاہم یہ سب دفتر میں بیٹھ کر خواہشات کی بیان بازی تک محدود ہے،پاکستان ایک لبرل جماعت کی تشکیل کا منتظر ہے اور عالمی برادری کو ایسے نظریات کی حمایت سے کوئی نہیں روکتا جو ایسی جماعت کی تشکیل میں معاون ہو۔

متن لکھیں اور تلاش کریں
© sweb 2012 - All rights reserved.