تازہ ترین سرخیاں
 تازہ ترین خبریں 
13 جولائی 2012
وقت اشاعت: 16:15

کوئٹہ،لاپتہ افراد کو 10دن میں پیش کرنے کا حکم

جیو نیوز - کوئٹہ… چیف جسٹس آف پاکستان افتخار محمد چوہدری نے بلوچستان میں امن و امان سے متعلق کیس کی سماعت کے دوران آئی جی ایف سی کو حکم دیا ہے کہ وہ صوبے سے لاپتہ سات افراد کو دس روز میں عدالت میں پیش کردیں۔ عدلیہ نے ریمارکس دئیے کہ اگر ان کی فورس میں موجود چندغلط عناصرظاہرہوں تو ان کی فورس کی عزت بڑھے گی۔۔ بلوچستان میں امن وامان اور لاپتہ افراد کے کیس کی سماعت آج پانچویں روز بھی جاری رہی، آج کی سماعت میں آئی جی ایف سی میجر جنرل عبیداللہ خان بھی پیش ہوئے، چیف جسٹس نے آئی جی ایف سی کو مخاطب کرکے کہا کہ ایف سی پر سنگین الزامات ہیں، ہر دو،تین کیس میں ایف سی پر لوگوں کے اٹھانے کا الزام ہے،اور اس حوالے سے سیشن جج نوشکی کی رپورٹ بھی ہے جسے نظرانداز نہیں کیا جاسکتا،جس پر آئی جی ایف سی کا کہنا تھا کہ وہ لاپتہ افراد کے کیسز میں حکومت کے ساتھ تعاون کررہے ہیں اور اس حوالے سے تمام کمانڈنٹس کو احکامات بھی جاری کئے گئے ہیں وہ لاپتہ افراد کے خاندان کو یقین دلاتے ہیں کہ لاپتہ افراد کی تلاش کے لئے ہر ممکن کوشش کریں گے اور اگر ان کو معلوم ہوتا کہ یہ لاپتہ افراد ایف سی کی تحویل میں ہیں تو وہ انہیں آج ہی لے آتے، تاہم چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ آپ اندرونی کہانی جانتے ہیں کہ لوگ ہمارے ملک کے اداروں کے پیچھے پڑے ہیں، اورہم نہیں چاہتے ہیں کہ ہماریادارے بدنام ہوں، ان کے پاس ایف سی کے حوالے سے شواہد ہیں، اگر آپ کی فورس میں موجود چندغلط عناصرظاہرہوں تو آپ کی فورس کی عزت بڑھے گی، آپ اپنے کمانڈنٹس سے کہیں کہ جائیں اور لاپتہ افراد لے کر آئیں، ورنہ ہم پانچ منٹ میں آرڈر کریں گے، جس پر آئی جی ایف سی کمرہ عدالت سے چلے گئے تاہم کچھ دیر میں عدالت کے طلب کرنے پر دوبارہ کمرہ عدالت میں پہنچ گئے، اس موقع پر ان کا کہنا تھا کہ بلوچستان میں ملک کی سلامتی کو بہت سے خدشات لاحق ہیں ،جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ ان کے پاس چوائس ہے کہ لاپتہ افراد کو لے آئیں یا وہ کمانڈنٹس کو سزا دے سکتے ہیں، ،اس کے بعد چیف جسٹس نے آئی جی ایف سی کو سات لاپتہ افراد کودس روز میں بازیاب کراکے عدالت میں پیش کرنے کا حکم دے دیا،اس سے قبل چیف جسٹس نے ڈیرہ بگٹی کے حوالے سے صوبائی سیکرٹری داخلہ نصیب اللہ بازئی کو حکم دیا کہ ڈیرہ بگٹی میں لگائی گئی بارودی سرنگیں صاف کی جائیں اور لوگوں کی آزادانہ نقل و حمل کو یقینی بنائیں اس حوالے سے ایک ہفتے میں رپورٹ سپریم کورٹ میں پیش کریں، جس کے بعدمیڈیا اوروکلاء علاقے کا دورہ کریں اور اگر وہ ڈیرہ بگٹی میں آئین کانفاذ نہیں کرسکتے تو وہ کریں گے اور سپریم کورٹ کا نمائندہ ڈیرہ بگٹی میں بٹھادیں گے، اس موقع پر انہوں نے یہ ریمارکس بھی دئیے کہ آج بلوچستان میں جو صورتحال ہے یہ اگست 2006میں نواب بگٹی صاحب کی شہادت کے بعد سے حالات خراب ہوئے، ہر شخص نواب اکبر خان بگٹی کی عزت کرتا ہے اس موقع پر چیف جسٹس نے صوبائی سیکرٹری داخلہ کو مخاطب کرکے یہ ریمارکس بھی دئیے کہ بازئی صاحب، پانچ دن میں انہوں نے کیا دیا ہے سوائے لاشوں کے،،بعد میں امن وا امان کیس کی سماعت چوبیس جولائی تک کے لئے ملتوی کردی گئی۔

متن لکھیں اور تلاش کریں
© sweb 2012 - All rights reserved.