13 جولائی 2012
وقت اشاعت: 16:31
توہین عدالت قانون کے خلاف درخواستوں پر نوٹس جاری
جیو نیوز - کوئٹہ… سپریم کورٹ نے توہین عدالت کے قانون کے خلاف دائر کردہ آئینی درخواست میں وفاق پاکستان ،اٹارنی جنرل اور سیکرٹری قانون کو نوٹسز جاری کردئے اور حکم دیا ہے کہ توہین عدالت کے قانون کے خلاف دائر کئے گئے تمام کیسزکو یکجا کرکے 23جولائی کو عدالت میں سماعت کے لئے پیش کیاجائے۔ سپریم کورٹ نے یہ حکم توہین عدالت کے قانون کے خلاف سینئر وکلاء اطہر من اللہ اور باز محمد کاکڑ کی مشترکہ آئینی درخواست کی سماعت کے دوران دیا۔ درخواست کے حق میں وکلاء نے دلائل دئے کہ توہین عدالت کا قانون آئین کے آرٹیکل دو اے کی خلاف ورزی ہے، جس میں آزاد عدلیہ کی ضمانت دی گئی ہے ، یہ آئین کے آرٹیکل 8،14اور25کی بھی خلاف ورزی ہے جس میں شہریوں کو برابر کے حقوق دیئے گئے ہیں، ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ توہین عدالت کے قانون کے ذریعے عدلیہ کے اختیارات کو محدود کرنے کی کوشش کی گئی ہے، اس پر چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری نے ریمارکس دئیے کہ عدالت وکلاء کے دلائل سن کر یہ محسوس کررہی ہے کہ آئندہ عدالت صبح کوئی آرڈر پاس کرے گی تو شام تک اس کا ہرقسم کا ردعمل آجائے گا، ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ یہ اپنی نوعیت کا پہلا کیس ہے ، وفقے کے بعد ہم اسے مزید غور سے سنیں گے تاہم تقریبا ایک گھنٹے کے وقفے کے بعدچیف جسٹس نے توہین عدالت کے قانون کے خلاف دائر کردہ آئینی درخواست میں وفاق پاکستان ،اٹارنی جنرل اور سیکرٹری قانون کو نوٹسز جاری کردئے ، انہوں نے یہ حکم بھی جاری کیا کہ کہ اٹارنی جنرل اس درخواست میں عدالیہ کی آزادی کی حوالے سے اٹھائے گئے سوالات کے جواب آئندہ سماعت میں پیش کریں بعد میں آئینی درخواست کی سماعت23جولائی تک کے لئے ملتوی کردی گئی۔