تازہ ترین سرخیاں
 تازہ ترین خبریں 
16 جولائی 2012
وقت اشاعت: 1:28

قبائلی علاقوں میں پاکستانی فوج کی کارروائی سے 46فیصد شہری ہلاکتیں ہوتی ہیں،امریکی اخبار

جیو نیوز - کراچی…محمد رفیق مانگٹ… امریکی اخبار نیویارک ٹائمزلکھتا ہے کہ پاکستان میں سی آئی اے کے حملوں کے حقیقی اعدادوشمار کا تجزیہ کرنے کے بعد اس نتیجے پر پہنچا جا سکتا ہے کہ پاکستان نئے ہتھیاروں کے استعمال کے لئے ان چاہی تجرباتی سرزمین بن چکا ہے۔ رپورٹ کے مطابق اگر ڈرونز سے وسیع پیمانے پر بھاری جانی نقصان کے اعدادوشمار کو درست بھی مان لیا جائے تو تب بھی روایتی جنگوں سے جانی نقصانات کم ہیں۔اخبار نے میساچوسٹس کے یونیورسٹی کے ماہر کے حوالے سے لکھا کہ پاکستان میں ڈرونز حملوں میں معصوم شہریوں کی ہلاکتوں پر چار اسٹڈیز سامنے آئی جن میں بے گنا ہ افراد کی ہلاکتوں کی شرح 4فیصد،6فی صد،17فی صد اور20فی صد ہیں۔ اگر 20فیصد کو آخری شمار کیا جائے تو تب بھی روایتی جنگوں کی نسبت کم نقصانات ہیں۔ جب پاکستانی فوج قبائلی علاقے میں عسکریت پسندوں کے خلاف زمینی کارروائی کرتی ہے تو 46فیصد شہری ہلاکتیں ہوتی ہیں،اسرئیل کی طرف سے حماس اور دیگر گروپوں کے عسکریت پسندوں کے خلاف ٹارگٹڈ کارروائی کی جاتی ہے جس میں بھاری اسلحہ اور میزائل استعمال کیے جاتے ہیں تو ان میں ہلاکتیں41فی صد ہیں۔ اخبار لکھتاہے کہ گزشتہ دو دہائیوں سے روایتی فوجی تنازعات میں کل ہلاکتوں میں شہری اموات کا تخمینہ 33 فیصد سے 80 فیصد سے زیادہ رہا۔اخبار لکھتا ہے کہ امریکی ڈرونز ہل فائر میزائل کے ساتھ ساتھ بھاری گولہ بارود سے کارروائیوں میں مصروف ہیں جن سے بعض لوگ ان قاتل روبوٹ سے انتہائی پریشان ہیں۔جن ممالک کے ساتھ امریکا حالت جنگ میں نہیں، ان خود مختار ممالک میں ان کے مہلک آپریشن نے کئی متنازعہ قانونی سوالات کھڑے کردیئے ہیں اور یہ سوالات کئی اسلامی ممالک میں ایک خاص طاقت کو جنم دے رہے ہیں اور ان کا پھیلاوٴ ایک لامحالہ خوفناک دور کا آغاز کردے گا۔لیکن اوباما کی جارحانہ ڈرونز کے استعمال پر ناقدین کا کہنا ہے کہ ڈرونز حملے ہدف کو نشانہ بناتے ہیں اور غیر ارادی طور پر ان کی زد میں معصوم شہری ہلاک ہوتے ہیں۔ ڈرونز کی تباہ کاریوں سے پاکستان کے پسماندہ قبائلی علاقوں سے دل ہلا دینے والی داستانیں ملتی ہیں جہاں ان ڈرونز کی غلطیوں نے کئی خاندانوں اور بچوں کا صفا یا کردیا ہے۔امریکی حکام کے لئے معصوم شہریوں کی ہلاکت سنجیدہ سوالات ہیں۔اخبار کے مطابق کچھ اخلاقی فلسفیوں، سیاسی سائنسدانوں اور ہتھیاروں کے ماہرین کا خیال ہے کہ روایتی جنگی طریقہ کار کی نسبت ڈرونز کو اخلاقی برتری حاصل ہے۔ڈرونز کے حق میں جتنے بھی دلائل دیئے جائیں،ان کے فوائد کو حاصل کرنے کے لئے ان کا استعمال دیگر ہتھیاروں کی نسبت بہترین انداز میں نہیں کیا گیا اور نہ ہی انسانی پہلو کو مدنظر رکھا گیا۔ان کا استعمال ناقص انٹیلی جنس معلومات پر کیا جائے یا آپریٹر کی غلطی سے ہدف غلط ہو جائے تو ہلاکتیں معصوم لوگوں کی ہی ہوں گی۔

متن لکھیں اور تلاش کریں
© sweb 2012 - All rights reserved.