16 جولائی 2012
وقت اشاعت: 12:11
آئی ایس آئی وزیراعظم کو جوابدہ ہے،سیاسی سیل کام نہیں کرسکتا،سپریم کورٹ
جیو نیوز - اسلام آباد… اصغر خان کیس میں آج سپریم کورٹ کو بتایا گیا کہ وزارت دفاع اور کابینہ ڈویژن کے نمائندے آئی ایس آئی میں سیاسی سیل کا نوٹی فکیشن ڈھونڈنے میں ناکام رہے۔ اصغر خان کیس کی سماعت میں سپریم کورٹ نے آئی ایس آئی میں ممکنہ سیاسی سیل کے خلاف حکم ثانی دے دیا، وزیراعظم سمیت سب کے نوٹس میں لائیں کہ سیاسی سیل تھا تو بھی کام نہیں کرسکتا۔ سپریم کورٹ میں اصغر خان کیس کی سماعت شروع ہوئی تو جسٹس خلجی عارف نے کہاکہ بتایا گیا تھا کہ آئی ایس آئی سیاسی سیل کی دستاویز اٹارنی جنرل آفس کو بھی ملی ہے، اس دستاویز کو اٹارنی جنرل آفس میں ہونا چاہیے۔ جس پر اٹارنی جنرل عرفان قادر نے کہاکہ وہ ان دستاویز کو آفس میں تلاش کریں گے ، چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ یہ طے ہوگیا ہے کہ آئی ایس آئی کی طرف سے رقوم تقسیم کی گئیں ، کسی کو ملکی دولت سے کوئی حکومت خراب کرنے کا حق نہیں ، چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ وزارت دفاع، ایم ائی ، آئی ایس آئی کی طرف سے کون پیش ہوگاَ ، کیا وزارت دفاع کے ڈائریکٹر لیگل ہی سب کیلئے کافی ہیں؟ اٹارنی جنرل تو عدالت کی معاونت کررہے ہیں، اس پر سیکریٹری دفاع نرگس سیٹھی نے کہاکہ ڈائریکٹر لیگل نے بتایاہے کہ آئی ایس آئی، ایم آئی خود پیش ہونا چاہتے ہیں، اس پر ہدایات لیکر اور تصدیق کرکے ہی مزید بتاسکتی ہیں۔چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ ابھی تو وزارت دفاع کی طرف سے کوئی وکیل نہیں آیا، کل کوئی یہ نہ کہے کہ اسے سنا نہیں گیا، آئی ایس آئی وزیراعظم کو جوابدہ ہے وہ چاہتے ہیں کہ تمام چیزیں شفاف ہوکر آئیں ۔عدالت نے اٹارنی جنرل کو حکم دیا کہ سیاسی سیل پر اسد درانی سے ملنے والی سمری کا جائزہ لیا جائے، دوسری صورت میں اس سمری کو سربمہر کرکے عدالت میں پیش کیا جائے۔عدالتی آرڈر میں یہ بھی کہا گیا کہ آئین کے تحت جمہوری عمل بغیر کسی ماورائے آئین مداخلت کے جاری رہے گا۔وزیراعظم سمیت سب کے نوٹس میں لائیں کہ سیاسی سیل تھا تو بھی کام نہیں کرسکتا، سیاسی سیل سے متعلق عدالت 31 جولائی کے فیصلے میں لکھ چکی ہے۔ اٹارنی جنرل کے استفسار پرجسٹس خلجی عارف نے کہاکہ سیاسی سیل کام نہیں کرے گا ، اس فیصلے میں لکھا ہے ، پڑھ لیں ، عدالت نے قرار دیا کہ ریاستی امور صرف آئین کے تحت ہی چل سکتے ہیں۔