16 جولائی 2012
وقت اشاعت: 16:33
ملک ریاض کے خلاف کیس کی سماعت 31جولائی تک ملتوی
جیو نیوز - اسلام آباد… سپریم کورٹ نے توہین عدالت کے خلاف نیا قانون رائج ہونے اور ملک ریاض حسین کی طرف سے انٹراکورٹ اپیل آنے پر ان کے خلاف توہین عدالت کیس پر مزید کارروائی سے متعلق فریقین سے قانونی رائے مانگ لی ہے ۔ ملک ریاض حسین کے خلاف توہین عدالت کیس کی سماعت جسٹس شاکراللہ جان کی سربراہی مین تین رکنی بنچ نے کی ، ملک ریاض کے وکیل ڈاکٹر باسط نے کہاکہ ان کی خواہش تھی کی آج فرد جرم لگ جاتی لیکن قانون اس میں رکاوٹ ہے ، مقدمہ کے درخواست گزار وکلاء نے کہاکہ فردجرم عائد کرنے کا حکم معطل ہونے تک،موجودہ کارروائی نہیں رک سکتی،انہوں نے کہاکہ ڈاکٹرباسط نے کہاتھاکہ نیاقانون ان کیلئے نہیں آیا،چاہے اسے ردی میں پھینک دیں،لیکن اب وہ اسی نئے قانون کا سہارا لے رہے ہیں، جسٹس شاکراللہ نے کہاکہ ہم نے یہ قانون پڑھا ہے کہ اپیل دائر ہونے کے ساتھ ہی کارروائی رک جاتی ہے، نکتہ یہ ہے کہ اس میں طریقہ کار کے حوالے سے نیا جبکہ سزا کیلئے پرانا قانون ہوگا، اٹارنی جنرل نے کہاکہ انٹراکورٹ اپیل آنے پر کیس کی مزید کارروائی روک دی جانی چاہیئے، اس پر بحث ہونی چاہیئے کہ اپیل پر کارروائی کس قانون کے تحت ہوگی، اٹارنی جنرل نے کہاکہ اگر اس نتیجے پر پہنچے کہ 2003ء کا قانون لاگو ہوگا تو قانونی و آئینی پیچیدگیاں آئیں گی، نئے قانون میں کہہ دیا گیا ہے کہ سابقہ قوانین ختم ہوچکے ہیں، پھر عدالت نے کارروائی کے طریقہ کار پر فریقین کو تیاری کیلئے مہلت دیدی جبکہ ملک ریاض کو حاضری سے استثنیٰ کی درخواست پر فریقین کو نوٹسز جاری کردئے، مقدمہ کی مزید سماعت 31 جولائی تک ملتوی کردی گئی۔