20 جولائی 2012
وقت اشاعت: 14:5
سپریم کورٹ ،خاتون کی سنگساری سے ہلاکت کے ازخود نوٹس کی سماعت
جیو نیوز - اسلام آباد… سپریم کورٹ نے ضلع خانیوال میں ایک عورت کی سنگساری سے ہلاکت کے ازخود نوٹس کیس میں آئی جی پنجاب پولیس پر کڑی نکتہ چینی کی ہے ، عدالت نے عدالت نے پنجاب میں جرائم کی شرح سے متعلق بھی تفصیلات طلب کرلی ہیں۔ چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے ضلع خانیوال کے علاقہ کچا کھوہ کے چک نمبر 15 میں خاتون کی سنگساری سے ہلاکت کے ازخود نوٹس کیس کی سماعت کی، پنجاب کے ایڈووکیٹ جنرل نے بتایاکہ مقتولہ مریم نے کسی دوسری کی جگہ سے گھاس کاٹی جس پر تنازع ہوا، پنچائیت کو اسکے قتل کیلئے نہیں بلکہ صلح کیلئے بلایاگیا تھا، متوفیہ کا خاوند بھی لاپتا ہوا جو کچھ دیر پہلے ہی بازیاب ہوگیا ہے، خاتون کے قتل کیس میں ملوث افراد میں سے 3 کو گرفتار کرلیاگیاہے، چیف جسٹس نے کہاکہ یہ کیسے ہوگیا کہ عدالت نے کیس سنا اور ادھر کچا کھوہ میں مغوی شوہر بازیاب ہوگیا، تین دن سے یہ آئی جی کیا کررہا تھا، کیا یہ ملک میں کہیں اور تعینات ہونے کے قابل ہے ، پانچ بچوں کی ماں مرگئی، باقی ملزم گرفتار نہ ہوئے تو آئی جی کو معطل کرنے کا کہیں گے، پنجاب کے خادم اعلی کو اس واقعہ کو علم نہیں تو پھر کیا علم ہے، ایڈووکیٹ جنرل نے وقفہ کے بعد عدالت کو بتایاکہ وزیراعلی پنجاب نے واقعہ کا نوٹس لیکر ملزموں کی 48 گھنٹوں میں گرفتاری کا حکم دے دیاہے، جسٹس جواد خواجہ نے ریمارکس میں کہاکہ ملک کے غریبوں کو ختم کردیں، غریب رہیں گے نہ ہی غربت، ایئرکنڈیشنڈ کمرے میں بیٹھ کر باتیں کرتے ہیں لیکن غریب کی نہیں سنتے،چیف جسٹس نے کہاکہ سنگساری کی شہادت ختم کرنے کیلئے عینی شاہد سرفراز کو اٹھایاگیا ہوگا، پنجاب اتنا بڑا صوبہ ہے اور اس میں امن و امان کی یہ صورت حال ہے، کوئی ناگزیر نہیں ہوتا، قبرستان ایسے لوگوں سے بھرا پڑا ہے۔