22 جولائی 2012
وقت اشاعت: 14:13
درگئی میں آج بھی لوگ میلوں دور سے پینے کاپانی لانے پر مجبور
جیو نیوز - نوشہرہ…آج بھی پاکستان کے کچھ علاقے ایسے ہیں جہاں عوام کو پانی جیسی بنیادی سہولت میسرنہیں۔نوشہرہ سے 60 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع علاقہ درگئی میں آج کے دور میں بھی لوگ اپنی ضرورت کیلئے گدھوں پر میلوں دور سے پانی لانے پر مجبورہیں۔درگئی میں تین سو سے زائد خاندان مقیم ہیں جو پینے کے صاف پانی سے محروم ہیں۔علاقے سے میلوں دور ایک کنواں ہے۔ جہاں سے خواتین ، بچے اور بوڑھے گھریلو استعمال اور پینے کے لئے پانی لاتے ہیں۔اِس کھلے کنویں میں گر کر اب تک چارخواتین جاں بحق ہوچکی ہیں۔افسوسناک بات تو یہ ہے کہ کنویں کا پانی اتنا گندہ ہے کہ استعمال کے قابل ہی نہیں، لیکن غریب شہری نہ صرف یہی پانی پینے پر مجبور ہیں بلکہ اس پانی کیلئے وہ میلوں سفر کرتے ہیں اور گدھوں پر لاد کر لاتے ہیں۔مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ جب سے ہوش سنبھالا ہے۔ ان کی زندگی پانی لانے اور پانی کی تلاش میں ہی گزری ہے۔ گندے پانی کے استعمال سے پھیلنے والی وبا سے بڑی تعداد میں لوگ متاثر ہوئے تھے۔ پبلک ہیلتھ ڈیپارٹمنٹ کی طرف سے پندرہ سال قبل علاقے میں ایک ٹیوب ویل کا انتظام بھی کیا گیا تھاجو بعد میں بند کردیا گیا۔پبلک ہیلتھ حکام کا کہنا ہے کہ اس وقت کے حکام کی غفلت اور ٹرانسفارمر کی چوری کی وجہ سے علاقے کو پانی کی فراہمی بند کردی گئی تھی۔لیکن جلد اس منصوبے پر کام کرکے علاقے کو پانی فراہم کیاجائے گا۔درگئی میں صاف پانی کی فراہمی پر توجہ نہیں دی گئی تو گندہ پانی پینے اور کنویں میں گرنے سے مزید قیمتی جانوں کے ضیاع کا خدشہ ہے۔ مقامی افراد کا کہنا ہے کہ پانی کا حصول ان کیلیے مشکل ترین کام ہے۔لگتا ہے پانی کی تلاش میں بھٹکنا ان کا مقدر بن گیا ہے۔اگر حکومت ذراسی توجہ دے تو ان کا دیرینہ مسئلہ حل ہوسکتا ہے۔اور ان کو بھی پانی کی نعمت میسر آسکتی ہے۔