22 جولائی 2012
وقت اشاعت: 15:52
گلیشیئر پگھلنے کی سست رفتار اورکم بارشوں سے خشک سالی کا خطرہ
جیو نیوز - اسلام آباد…ملک بھر میں مون سون کا سیزن شروع ہو چکا ہے مگر بارشیں نہ ہونے کے برابر ہیں۔ اُدھر گلیشیئرز پگھلنے کی سست رفتار کے باعث ملک میں خشک سالی کا خطرہ منڈلانے لگا ہے۔ان دنوں ملک کے اکثر میدانی علاقے شدید گرمی کی لپیٹ میں ہیں جبکہ بالائی اور شمالی علاقوں میں کہیں کہیں تیز اور موسلادھار بارشوں اور گلیشیئر پگھلنے سے پانی ڈیموں میں آرہا ہے۔اِس سال مئی کے دوران محکمہ موسمیات کی جانب سے مون سون کے دوران معمول سے 20 فیصد زاید بارشوں کی پیشگوئی کی گئی تھی لیکن تاحال اب تک ایسا نہیں دیکھا گیا۔ دوسری جانب ملک کے بالائی علاقوں میں درجہ حرارت نہ بڑھنے کے سبب گلیشیئر کا پگھلاوٴ سست روی کا شکار ہے ، اسی وجہ سے تربیلا اور منگلا ڈیموں میں پانی کی آمد میں بھی اضافہ نہیں ہو پارہا۔اُدھر ڈیموں میں آنے والے پانی کو ذخیرہ کرنے کے بجائے دریاوٴں میں چھوڑا جارہا ہے تاکہ چاول ،کپاس،گنے کی فصل کومناسب پانی میسر آسکے۔تربیلا ڈیم میں پانی کی سطح 1459.66فٹ رکارڈ کی گئی، ڈیم کی انتہائی سطح 1550فٹ ،ڈیم میں مزید 90فٹ پانی بھرنے کی گنجائش ہے، تربیلا میں پانی کی آمد ایک لاکھ75ہزار300 اور اخراج ایک لاکھ70 ہزار کیوسک رکارڈ کی گئی ہے منگلا ڈیم میں پانی کی سطح 1147.35فٹ رکارڈ کی گئی، رواں سیزن میں منگلا ڈیم کی سطح 40فٹ بڑھا کر 1242فٹ مقرر کی گئی ہے ، منگلا میں پانی کی آمد 34ہزار527 اور اخراج 15ہزار کیوسک رکارڈ کی گئی ہے۔تربیلا اور منگلا کو بھرنے کے لیے اب ایک ماہ سے کم وقت رہ گیا ہے۔اگر صورتحال میں بہتری نہ آئی تو خشک سالی کا خطرہ ہے۔جیو نیوز سے گفتگو میں چیف میٹرولوجسٹ محمد ریاض کا کہنا تھا کہ اگست کے وسط سے جنوبی پنجاب اور سندھ میں بارشیں ہو سکتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پہاڑوں پر برف پگھل چکی ہے۔ اب ڈیموں میں پانی کی آمد کا دارمدار بارشوں پر ہوگا۔