24 جولائی 2012
وقت اشاعت: 12:47
توہین عدالت قانون،لگتا ہے مسودہ بنانے والے نے غلطی کی،چیف جسٹس
جیو نیوز - اسلام آباد… سپریم کورٹ نے توہین عدالت قانون کیخلاف دائر درخواستوں کی آج بھی سماعت کی ، چیف جسٹس افتخار چودھری نے کہاکہ 18ویں آئینی ترمیم نے توہین عدالت کے آرڈیننس 2003ء کو تحفظ دیا، راتوں رات قانون بدلنے درست نہیں، جسٹس جواد خواجہ نے کہاکہ مخصوص مراعات یافتہ طبقہ کو استثنی ٰدینے کی کوشش کی گئی ہے۔ چیف جسٹس افتخارمحمد چودھری کی سربراہی میں پانچ رکنی بنچ نے مقدمہ کی سماعت کی تو قانون کے خلاف درخواست گزار وکلاء نے دلائل جاری رکھے، لیاقت قریشی ایڈووکیٹ نے کہاکہ قانون سازی کے وقت اس پر درکار بحث اور غور فکر نہیں ہوا، چیف جسٹس نے کہاکہ کیا اس بنیاد پر کسی قانون کو ختم کیا جاسکتا ہے،صدر، کراچی بار کی درخواست پر وکیل حامدخان نے دلائل دئے اور کہاکہ توہین عدالت کا نیا قانون، 1976 کے قانون کی ہوبہو نقل ہے، صرف اس میں صدر، وزیراعظم، گورنر،وزیراعلی وزارء کی نئی کلاز شامل ہوئی ہے، توہین عدالت ایکٹ کا سیکشن 4 ،عدالتی فیصلہ غیر موثر کرنے کی کوشش ہے، یہ ، آئینی آرٹیکل 189 سے متصادم بھی ہے،نیا قانون ،عجلت میں پیش اور منظور کیا گیا، اسکا ڈھانچہ ، آئین سے ناسمجھی کی بنیاد پر ہے، چیف جسٹس نے کہاکہ سیکشن 4 اس لئے ہے کہ عدالتی فیصلہ غیر موثر ہونے سے سزا ہی نہ ہوسکے، پارلیمانی نظام میں قانون بنانے کا خاص طریقہ ہے، عدالت اس کیس میں کسی کو الزام نہیں دیتی لیکن لگتا ہے کہ اس میں قانون کا مسودہ بنانے والے کی غلطی ہے، ملک میں 18ویں، 19ویں اور 20ویں آئینی ترامیم میں کسی قانون کو چھیڑا نہیں گیا، پارلیمانی روایات ، صحت مند روایات کے طور پر جانی جاتی ہیں، ہم نے ملک میں پارلیمانی نظام جمہوریت لانا ہے تاکہ لوگوں کو فائدہ ہو،پارلیمنٹ نے 2003ء کا آرڈیننس اس لئے بچایا کہ وہ آئین کے مطابق تھا، پھر سماعت میں وقفہ کردیا گیا جبکہ حامد خان کو آج ہی بحث سمیٹنے کی ہدایت بھی کی گئی۔