25 جولائی 2012
وقت اشاعت: 14:1
توہین عدالت قانون پر پارلیمنٹ میں بحث کا ریکارڈ طلب
جیو نیوز - اسلام آباد… سپریم کورٹ نے توہین عدالت کے خلاف حالیہ نئی قانون سازی پر پارلیمنٹ میں کی گئی بحث کا ریکارڈ طلب کرلیا ہے ، جسٹس جواد خواجہ نے کہاکہ امیر اور غریب کے لئے الگ الگ قانون ہوں تو یہ چیز تباہی کی طرف لے جائے گی۔ چیف جسٹس افتخارچودھری کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے پانچ رکنی بنچ نے توہین عدالت قانون کے خلاف دائر درخواستوں کے مقدمہ کی سماعت کی ۔ قانون کے خلاف درخواست گزار وکلاء کے دلائل جاری رہے، عبد الرحمان صدیقی ایڈووکیٹ نے کہاکہ سپریم کورٹ میں بابر اعوان ، شرجیل میمن ، ملک ریاض کے خلاف توہین عدالت کے مقدمات زیر سماعت ہیں ، نیا قانون ان افراد کو بچانے کے لئے لایا گیا ہے ، اے کے ڈوگر نے کہاکہ آئینی طور پر یہ ایک مردہ قانون ہے، عدالت نے وفاق کے وکیل عبدالشکور پراچہ کو کہاکہ پارلیمنٹ میں توہین عدالت قانون پر کی جانے والے بحث کا ریکارڈ فراہم کیا جائے ، چیف جسٹس نے ریمارکس میں کسی کو عدلیہ کے احکامات کی تضحیک کرنے کا حق نہیں، چرچل نے کہا تھا کہ اگر عدلیہ آزاد ہے تو جنگ جیت جائیں گے، توہین عدالت کے قانون 2003ء کو 18 ویں ترمیم میں بھی تحفظ دیا گیا،سیاستدانوں کی بصیرت تھی کہ قانون کو 18 ویں ترمیم میں نہیں چھیڑا، جسٹس جواد خواجہ نے کہاکہ، پبلک آفس ہولڈرز کو استثنیٰ صرف نیک نیتی کی بنیاد پر حاصل ہے، یہ قانون عام شہریوں کے لئے لمحہ فکریہ ہے، جسٹس تصدق جیلانی نے کہاکہ ہمیں پارلیمنٹ کا احترام ہے، ہمارے سامنے تو صرف یہ قانون زیر سماعت ہے۔