9 جولائی 2011
وقت اشاعت: 9:40
’مشرف نے ایران پر جوہری پروگرام ترک کرنے کیلئے دباوٴڈالا تھا‘
جنگ نیوز -
کراچی…ایک اور خفیہ امریکی مراسلے میں انکشاف ہوا ہے کہ مشرف حکومت نے ایران پر جوہری پروگرام ترک کرنے کیلئے دباوٴ ڈالا تھا۔ مئی دو ہزار چھ کے خفیہ امریکی مراسلے کے مطابق صدر پرویز مشرف سمیت وزیر اعظم شوکت عزیز اور وزیر خارجہ خورشید محمود قصوری نے کئی موقعوں پر ایرانی قیادت کو قائل کرنے کی کوشش کی کہ وہ علاقائی استحکام کی خاطر اپنے ایٹمی عزائم ترک کردے۔ ایٹمی تنازع کے حوالے سے پاکستان نے امریکا اور ایران کے درمیان پیغام رساں کا کردار بھی ادا کیا۔ صدر پرویز مشرف نے ایرانی ہم منصب محمود احمدی نژاد اور ان کے نائب پرویز داوٴدی سے بھی ملاقاتوں میں زور دیا کہ تہران اب اپنا ایٹمی پروگرام رول بیک کردے کیونکہ اس سے پاکستان سمیت پڑوسی ملکوں کیلئے مشکلات پیدا ہورہی ہیں۔ مشرف حکومت نے اسرائیل کیخلاف سخت بیان بازی سے بھی ایران کو باز رہنے کی تلقین کی۔ مراسلے میں ایک اور اہم انکشاف یہ بھی سامنے آیا ہے جس کے مطابق اپریل دو ہزار چھ میں وزیر خارجہ خورشید محمود قصوری نے امریکی سینیٹر Chuck Hagel سے ملاقات میں کہا تھا کہ ایران کو جوہری ہتھیاروں کے حصول سے روکنے کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ پاکستان ، مسلم دنیا میں ایٹمی طاقت رکھنے والا واحد ملک رہنا چاہتا ہے۔