22 ستمبر 2015
وقت اشاعت: 18:35
پیرس میں کاروں پر ایک روزہ پابندی کا فیصلہ
جیو نیوز - پیرس.......حافظ محمد نعمان.......فرانس کے دارالحکومت پیرس میں اس اتوار کو ایک روزہ کاروں پر پابندی لگانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ اس فیصلے کا مقصد کاروں سے خارج ہونے والے گیس کے دھوئیں اور کانوں کو چبھتی ہوئی ہارن کی آوازوں سے چھٹکارا حاصل کرنا ہے۔
فرانسیسی دارالحکومت نے ماحولیاتی آلودگی سے بچائو کیلئے سخت فیصلے کرنے شروع کردئیے ہیں اور اس ہفتے کے آخر میں پیرس شہر کے سب سے زیادہ مقبول سیاحتی مقامات پر کار لے جانے پر پابندی ہوگی۔
اس اقدام کا آغاز پیرس کی میئر اینا ہیڈالگوکی جانب سے کیا گیا ہے جسے ’’گاڑی کے بغیر دن‘‘ کا نام دیا گیا ہے اور میئراینا کو امید ہے کہ دیگر یورپی ممالک بھی اس قانون کو اپنائیں گے۔
اتوار کی صبح 7بجے سے 11بجے کے دوران پیرس کے مقبول سیاحتی مقامات پر گاڑیاں لے جانے پر پابندی ہوگی۔ ان مقامات میں مارائس، مشہور شوزا لیزے ایونیو اور مو مارٹر شامل ہیں۔
کئی سڑکوں کو مکمل طور پر ’’کار فریــ‘‘ نامزد کیا گیا ہے، تاہم سیاحوں کو ٹریفک کیلئے اپنے گارڈز پر انحصار کرنا ہوگا۔ بعض علاقوں میں رہنے والے مقامی لوگوں، ایمرجنسی گاڑیاں اور ڈیلیوری ڈرائیوروں کو گاڑی لانے کی اجازت دی جائے گی۔
لوکل فرانس کے مطابق اہم کار فری زون پہلے، دوسرے، تیسرے اور چوتھے انتظامی ضلعوں میں ہوں گے۔ اس اقدام کا آغاز یورپین موبیلٹی ویک اور اقوام متحدہ کی ماحولیاتی کانفرنس (COP21) کے موقع پر ہوگا۔
ایک جانب اینا ہیڈالگو کے اس فیصلے کو سراہا گیا ہے تو دوسری جانب اس فیصلے پر تنقید بھی کی گئی ہے۔ لوگوں کا کہنا ہے کہ یہ ایک اچھا فیصلہ ہے تاہم بچوں کے ساتھ اتوار کے دن بغیر گاڑی کے نکلنا خاصا دشوار گزار مرحلہ ہے۔
لوگوں کے مطابق پبلک ٹرانسپورٹ ہمیشہ سے عملی نہیں ہوتی، خاص کر جب بچہ چھوٹا ہو اور اسے بچہ گاڑی میں لے جانا پڑتا ہو۔ تاہم اکثر لوگوں کا کہنا ہے کہ پیرس کی گلیوں میں پیدل گھومنے کا آئیڈیا برا نہیں۔
واضح رہے کہ اسی سال مارچ میں بھی پبلک ٹرانسپورٹ پیرس میں آزاد تھا اور شہر کی آدھے سے زائد گاڑیاں روڈ پر نہیں آئیں تاکہ ماحولیاتی آلودگی سے چھٹکارا حاصل کیا جاسکے۔
پیرس کی میئر اینا ہیڈالگو نے ریاست کی جانب سے گاڑیوں پر ایک روزہ جزوی پابندی پر خوشی کا اظہار کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ صرف ایسی گاڑیوںکو روڈ پر آنے کی اجازت ہوگی جن کی نمبر پلیٹس کا اختتام طاق عدد پر ہوگا جبکہ ٹیکسی، الیکٹرک گاڑیاں اور ایمبولینسوں کو بھی پابندی سے استثنیٰ حاصل ہوگا۔