24 ستمبر 2015
وقت اشاعت: 15:15
ماضی میں بھی حج کے دوران سنگین حادثات ہوتے رہے ہیں
جیو نیوز - مکہ مکرمہ.......ماضی میں بھی حج کے دوران سنگین حادثات ہوتے رہے ہیں جن میں ہزاروں عازمین اور حجاج جاں بحق ہوچکے ہیں۔ حج کے دوران بھگدڑ مچنے اور آگ لگنے کے ساتھ دیگر حادثات ہوتے رہتے ہیں۔
آگ سے محفوظ رہنےو الے خیمے بناکر منیٰ میں آگ لگنے کے واقعات پر تو قابو پالیا گیا ہے، لیکن بھگدڑ مچنے کے واقعات ہر کچھ عرصے بعد پیش آتے رہتے ہیں۔
سب سے بدترین حادثہ دو جولائی 1990ءکو ہوا جب مکہ سے منیٰ کی طرف جانے والی سرنگ میں بھگدڑ مچی اور 14سو سے زائد افراد جاں بحق ہوئے۔
12 جنوری 2006ء کو رمی کے دوران بھگدڑ سے45 پاکستانیوں سمیت 362 افراد کچلے گئے اور ایک ہزار کے قریب زخمی ہوئے۔ یکم فروری 2004ء کو رمی کے موقع پر بھگدڑ سے 10 پاکستانیوں سمیت 251 حاجی جاں بحق اور 244 زخمی ہوئے۔23 مئی 1994ء کو رمی کے دوران بھگدڑ سے کم از کم 270 حاجی شہید ہوگئے ۔
9 اپریل 1998ء کو جمرات کے پل پر ہونے والے حادثے میں 118 افراد جان سے گئے ۔5 مارچ 2001ء کو رمی کے دوران بھگدڑ مچنے سے 35 حاجی کچلے گئے ۔11فروری 2003ء کو رمی کے دوران بھگدڑ سے 4 پاکستانیوں سمیت 22 افراد جاں بحق ہوئے۔
بھگدڑ کے علاوہ منی میں آگ لگنے کے بھی کئی واقعات رونما ہوچکے ہیں ۔ دسمبر 1975ء میں گیس کا سلینڈر پھٹنے سے منیٰ کی خیمہ بستی میں آگ لگنے سے 200 حاجی جاں بحق ہوگئے ۔
15 اپریل 1997ءکو منیٰ میں ہی 8 ذوالحجہ کو لگنے والی آگ سے 343 عازمین جاں بحق اور 1500 زخمی ہوئے۔ اس واقعے کے بعد سے منیٰ میں آگ سے محفوظ رہنے والے خیمے لگائے جاتے ہیں۔
اس کے علاوہ 5 جنوری 2006ء کو مسجد الحرام کے پاس ایک ہوٹل کی پختہ عمارت گر نے سے بھی 76 افراد جاں بحق اور 64 زخمی ہوگئےتھے ۔