تازہ ترین سرخیاں
 عالمی خبریں 
24 ستمبر 2015
وقت اشاعت: 17:31

مکہ کرین حادثے کے بعد ایک اور افسوسناک سانحہ

جیو نیوز - منیٰ/ مکہ مکرمہ ......حافظ محمد نعمان.......24 ستمبر 2015ء، جمعرات کا دن، مکہ مکرمہ میں ایک اور افسوسناک سانحہ رونما ہوا۔ منیٰ میں رمی جمرات یعنی شیطان کو کنکریاں مارنے کے دوران بھگدڑ مچ گئی جس کے نتیجے میں 717 افراد جاں بحق اور 863 زخمی ہوگئے۔

سعودی وزارت داخلہ نے منیٰ سانحے میں جاں بحق ہونے والے افراد کی تعداد میں اضافے کا خدشہ ظاہر کیا ہے۔ پاکستان میڈیکل مشن کے مطابق حادثہ جمرات شارع 204پر پیش آیا۔ رمی کے موقع پر بھگدڑ سے شہید ہونے والوں میں چند پاکستانی بھی شامل ہیں۔

رواں سال حج کے موقع پریہ دوسرا بڑاسانحہ ہے۔ چند ہی روز قبل 11ستمبر کو مکہ مکرمہ میں افسوسناک حادثہ پیش آیا جب طوفانی بارش اور آسمانی بجلی گرنے کے باعث ایک کرین ٹوٹ کر مسجدالحرام میں عبادات میں مصروف مسلمانوں پر جاگری۔ حادثے میں 118 افراد شہید اور 394 زخمی ہوئے۔

یہ حادثہ اس وقت پیش جب آیا جب مسجد الحرام کی توسیع کا کا م جاری تھا۔ گرنے والی کرین بن لادن گروپ کی ملکیت تھی جس کے باعث سعودی حکومت نے بن لادن گروپ کو بلیک لسٹ کردیا جبکہ حادثے کے شہدا اور زخمیوں کیلئے امداد کا اعلان کیا گیا۔

بعض اوقات بڑھتے ہوئے ہجوم جب ایک مناسک حج سے دوسرے کو سفر کرتے ہیں تو ان میں بھگدڑ مچ جاتی ہے۔ لوگ گھبرا جاتے ہیں اور کچلے جانے سے بچنے کی نیت سے لوگ بھاگنے لگتے ہیں اور سینکڑوں جانیں ضائع ہو جاتی ہیں۔ سب سے زیادہ حادثات رمی جمرات کے دوران پیش آتے ہیں۔

رمی جمرات کے دوران کے چند حادثات

2 جولائی 1990ء: مکہ سے منیٰ اور میدانِ عرفات کی طرف جانے والی ایک سرنگ جس سے لوگ پیدل سفر کرتے ہیں، اس میں بھگدڑ مچی اور 1,426 افراد جاں بحق ہوئے۔ جاں بحق ہونے والوں میں سے زیادہ تر کا تعلق ملائیشیا، انڈونیشیا اور پاکستان سے تھا۔

23 مئی 1994 ءکو رمی کے دوران مچنے والی بھگدڑ سے کم از کم 270 حاجی جاں بحق ہوئے۔ 9 اپریل 1998ء کو جمرات کے پل پر ہونے والے ایک حادثے میں 118 افراد جاں بحق اور 180 زخمی ہوئے۔

5 مارچ 2001ء کو رمی کے دوران 35 حاجی کچلے جانے سے جاں بحق ہوئے۔ 11 فروری 2003ء کو رمی کے دوران 14 افراد جاں بحق ہوئے۔ یکم فروری 2004ء کو منیٰ میں رمی کے دوران بھگدڑ سے 251 افراد جاں بحق اور 244 زخمی ہوئے۔

12 جنوری 2006 ءکو حج کے آخری دن رمی جمرات کے دوران کم از کم 346 افراد کچل کر جاں بحق اور 289 زخمی ہوئے۔ یہ حادثہ دن ایک بجے کے بعد پیش آیا جب عازمینِ حج سے بھری ایک بس کے عازمینِ حج پل جمرات کے مشرقی راستے پر پہنچے تو کچھ افراد گر گئے اور یہ حادثہ شدت اختیار کر گیا۔ اس وقت لگ بھگ 20 لاکھ افراد مناسک حج ادا کر رہے تھے۔

اس حادثے کے بعد جمرات کا پل اور شیطان والے ستون ہٹا کر دوبارہ بنائے گئے۔ ایک زیادہ وسیع اور کئی منزلہ پل بنایا گیا اور شیطان کے ستون بھی نئے اور بڑے بنائے گئے ۔ اب ہر منزل پر آنے اور جانے کے راستے محفوظ تر ہیں۔

مزید برآں رمی کے لیے الگ سے نظام الاوقات بنا دیے گئے ہیں تاکہ اس طرح کے حادثات سے بچا جا سکے۔ جمرات کے میدان کو گول سے بیضوی شکل میں تبدیل کر دیا گیا ہے تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگ آسانی سے رمی کر سکیں۔ اس کے علاوہ نئے انتظامات کے تحت آنے اور جانے کے راستے الگ کر دیے گئے ہیں۔

متن لکھیں اور تلاش کریں
© sweb 2012 - All rights reserved.