3 اکتوبر 2015
وقت اشاعت: 14:43
دنیا بھر میں ایوی ایشن عملے کی ہڑتالیں معمول بن گئیں
جیو نیوز - برلن .......دنیا کے ترقی یافتہ ممالک میں بھی پائلٹوں، ایئرلائن اسٹاف یا زمینی عملے کی ہڑتالوں کے باعث ہر سال لاکھوں مسافر اپنی منزلوں تک نہیں پہنچ پاتے ۔
گزشتہ ماہ جرمنی کی سب سے بڑی ایئرلائن لفتھانسا کے 5400 پائلٹوں کی ہڑتال کے باعث 1 ہزار سے زائد پروازیں متاثر ہوئیں۔ ہڑتال کے باعث ڈیڑھ لاکھ کے قریب مسافر اپنی منزلوں پر نہیں پہنچ پائے۔
ستمبر ہی میں چلی میں ائیرپورٹ ورکرز کی ہڑتال میں تمام پروازیں منسوخ کردی گئیں جس سے 70 ہزار مسافر متاثر ہوئے۔ سول ایوی ایشن کے 3ہزار ورکروں میں سے 90 فیصد نے ہڑتال میں حصہ لیا جو ریٹائرمنٹ کے بعد بہتر سہولتوں کا مطالبہ کررہے تھے۔
اسی سال اپریل میں فرانس کے سول ایوی ایشن ادارے اور ائیرپورٹ کنٹرول ٹاور کے کارکنوں کی یونین نے ملک گیر ہڑتال کر دی جس کے نتیجے میں 2 ہزار کے قریب پروازیں متاثر اور لاکھوں مسافر پریشان ہوئے ۔
سن 2012 میں بھارت کی سرکاری ہوائی کمپنی ائیر انڈیا کے کئی پائلٹس کے ’بیمار‘ ہو جانے کے بعد اب نجی کنگفشر ایئرلائن کے 80 پائلٹس خود کو ’بیمار‘ قرار دے کر چھٹی پر چلے گئےجس سے درجنوں فلائٹس منسوخ کرنا پڑیں۔
5 سال قبل مئی 2010 میں برٹش ایئرویز کے کیبن کریو اسٹاف کی پانچ روزہ ہڑتال کے باعث دنیا کے مصروف ترین ہیتھرو ائیرپورٹ کی نصف کے قریب پروازیں منسوخ کرنا پریں ۔۔برٹش ائیرویز کے نوے فیصد کیبن کریو اسٹاف کی نمائندہ یونین کی جانب سے کٹوتیوں کے خلاف احتجاج اور ملازمین کی مراعات بحال کرنے کا مطالبہ کیا جارہا ہے۔