تازہ ترین سرخیاں
 عالمی خبریں 
5 اکتوبر 2015
وقت اشاعت: 7:47

اسپین میں پانچ صدیاں قبل جلا وطن ہونے والے مسلمانوں کا خیر مقدم ہوگا

جیو نیوز - بارسلونا......شفقت علی رضا......پانچ صدیا ں قبل اسپین میں مسلمانوں کے دور حکومت کے خاتمے کے بعد مختلف اقوام کو جلا وطن کئے جانے جیسی تاریخی غلطیوں کودرست کرنے کے ضمن میں یہودیوں کوا سپین واپس آنے کی صورت میں خوش آمدید کہنے کے بعد مسلمانوں سمیت دوسری اقوام اور مذاہب کوہسپانوی حکومت خوش آمدید کہے گی یا کہ یہ سہولت صرف یہودیوں کے لئے مرتب کی گئی ہے؟یہ وہ سوالات ہیں جن کے جوابات کے لئے تاریخ کا تفصیلی جائزہ لیا جانا نہایت ضروری ہے ۔

دنیابھرکے 3اعشاریہ 5ملین افراد کاتعلق یہودی (سفاردک)نسل سے ہے اوراسپینش زبان میں یہودی کو”سفاردک“کہتے ہیں۔نہایت ہی غیرمعمولی انداز میں ایک چٹانی پہاڑ پرواقع علاقہ ٹولیدو جس میں بہنے والے دریائے تاخیس کاخم دیکھتے ہی دیکھتے نظروں سے اوجھل ہوجاتاہے۔اس علاقے کی پیچ دارگلیوں میں وہ عمارات واقع ہیں جوایک زمانے میں مساجد،کلیسا اورمعبد تھیں اوراس کثیرالاقوامی تہذیب کی نشاندہی بھی کرتیں تھیں جواس قدیم شہرمیں مروج تھیں ۔

اس ماہ کے اوائل میں ٹولیڈوسے تقریباً 50میل کے فاصلے پرہسپانوی حکومت نے وہاں مقیم مختلف تہذیبوں کے ساتھ اپنے روابط مضبوط کرنے کے لیے ان یہودیوں کوا سپین میں تیزی سے آباد کرنے کے لیے ایک منصوبے کااعلان کیاجنہیں پانچ صدیاں قبل اسپین سے جلاوطن کردیاگیاتھا۔حکومت کے مطابق اس کی طرف سے جاری کیے گئے قانون کے ذریعے ”تاریخی غلطی درست ہوجائے گی۔“

اس قانون کی ابھی تک پارلیمان نے منظوری نہیں دی لیکن تل ابیب اوریروشلم میں موجود سفارت کار وں کاکہناہے کہ معلومات کی فراہمی کے لیے انہیں بے شماردرخواستیں موصول ہوئی ہیں۔اب ایک اورنسلی گروہ سے منسلک افراد جواسپین کی شاندارتہذیب کا بہت مدت تک ایک ممتاز حصہ رہے تھے ، ان کاکہناہے کہ انصاف کاتقاضا تو یہ ہے کہ انہیں بھی واپسی کاحق دیاجائے۔

اسپین سے یہودیوں کوجلاوطن کرنے کے تھوڑی دیربعد ملکہ ازابیل اورشاہ فرڈینینڈ نے اپنی توجہ سپین کے مسلمانوں کی طرف مبذول کی اورانہیں مجبورکردیاکہ یاتووہ عیسائی ہوجائیں یا پھر جلا وطن۔ جومسلمان عیسائی بن گئے،انہیں موریکوز کہاجاتاہے،عیسائی بننے والے مسلمانوں نے یہ عمل محض دکھاوے کے لیے کیا یا وہ اپنے عقائد وروسوم پرسختی سے قائم رہے۔ اس معاملے میں بھی دو رائے ملتی ہیں کچھ تاریخ دان لکھتے ہیں کہ وہ سب اپنے مذہب کی رسومات پر قائم رہے اور کچھ کا لکھنا ہے کہ وہ دکھاوے کے لئے عیسائی نہیں بنے تھے۔

سن 1600کی دہائی کے اوائل میں اسپین کے یہودیوں کویہاں سے نکل جانے کے حکم کے 120سال بعدان عیسائیوں موریکوز کو بھی جلا وطن کر دیا گیا جنہوں نے اپنا مذہب” اسلام “ا سپین میں مقیم رہنے کے لئے چھوڑا تھا اس وقت تقریباً 275000 افراد کوزبردستی جلاوطن کردیاگیاجنہوں نے مراکش کارخ کیااورکچھ لوگ الجیریااورتیونس چلے گئے۔

مراکش میں مقیم موریکوز کے ایک نمائندہ گروہ نے حال ہی میں ایک خط ا سپین کے بادشاہ خوآن کارلوس کولکھاہے جس میں استدعاکی گئی ہے کہ ان کے ساتھ بھی اسی طرح خوشگواربرتاؤکیاجائے جو یہودیوں کے ساتھ روا رکھا گیا ہے ۔ مروکو کے شہر رباط سے بات کرتے ہوئے صدرنے اسپین کی حکومت کے دہرے معیارپرشدیدتنقید کی کہ جس کے ذریعے حکومتِ ا سپین یہودیوں کوتویہاں آنے کی دعوت دے رہی ہے لیکن مسلمانوں کواسپین میں دوبارہ آنے کی دعوت نہیں دی گئی۔

نجیب لوباریز نے خبررساں ایجنسی ای ایف ای کوبتایاکہ اسپینی حکومت کویہ حقوق جلاوطن ہونے والے تمام اقوام اور مذاہب کے افراد کوبھی دینے چاہئیں ورنہ سمجھا جائے گا کہ حکومت کایہ فیصلہ محض ان کی پسندپرمبنی اورنسلی پرستی پرمشتمل ہے۔لوباریز کااندازہ ہے کہ مراکش میں موجود600خاندانوں کے آباواجدادا سپین میں آباد تھے۔انہوں نے کہاکہ ان میں اکثراسپینش زبان نہیں بولتے لیکن ان کی موسیقی،طرزتعمیر اورذوق طعام ونوش میں اسپین کے ساتھ ان کاتعلق نہایت ہی واضح نظرآتاہے۔

محمدایسوڈرو ارائب نے کہا”اسپین میں(خونتا اسلامیکا )نے جلاوطن مسلمانوں اوراسپین کے ساتھ تعلقات دوبارہ قائم کیے ہیں۔آج بھی تمام ملک میں ایسے خاندان موجود ہیں جواپنے نسلی تعلق کااظہار کرسکتے ہیں،جویہ بتاسکتے ہیں کہ ان کے عزیزسیکڑوں برس قبل یہاں سے جلاوطن کیے گئے تھے۔“

مسلمانوں کی اس تنظیم نے اسپینی حکومت کواس امرپرآمادہ کرنے کے لیے سالہاسال صرف کیے کہ مسلمانوں کی اولادوں کوواپس آنے کی اجازت دی جائے۔2006ء میں ”اندلوسیا“ کے خودمختارعلاقے کے بائیں بازو کی جماعت نے ایک مسودہ قانون پیش کیا جس سے ان مسلمانوں کے حقوق تسلیم کرلیے جاتے جنہیں جلاوطن کردیاگیاتھا۔ارائب نے افسوس کااظہارکرتے ہوئے کہا”یہ قانون کبھی بھی منظوری کے لیے پیش نہیں ہوا،ایسامعلوم ہوتاہے کہ اسپینش حکومت ہماری رائے سے متفق نہیں۔

قرطبہ یونیورسٹی میں قانون کے پروفیسر انٹینومینوئل روڈری گوائز راموس نے کہا”اسپین میں اسلامی اثرورسوخ کے متعلق شعوربیدار کرنے کے لیے شہریت کے حقوق کامطالبہ کیاگیاہے۔ہم یورپ میں صرف ایک ایسی جگہ ہیں جواپنے ماضی سے جداہوچکاہے۔“انہوں نے مزیدکہاکہ ا سپینی مسلمانوں کی اولاد کوواپس آنے کاحق مل جائے تو وہ علامتی ہوگا ناں کہ اسے عملی کہا جائے ۔چونکہ اسپینی یہودی اپنے آباوٴ اجداد کے ناموں،زبان یااسپین میں ان کی تنظیموں کی طرف سے معلومات ایک سند کی طرح ثبوت کے طور پر حاصل کررہے ہیں ،لیکن اسپینی مسلمانوں کی اولاد کے لیے یہ سب کچھ کرنا تقریباً ناممکن ہے اسی لئے صدیوں کی بھول کی اصلاح کرنے کا یہ عمل مسلمانوں کی اولادون کے لئے اسپین میں واپسی کے لئے طویل ہوسکتاہے۔

اسپینی حکومت کی طرف سے اس اعلان کے بعد دنیابھر کے کالم نگاراس سوچ میں گم ہیں کہ کہ وہ کیا وجہ ہو سکتی ہے کہ سپانش حکومت نے سپینی یہودیوں سے رابطہ کرنے کی ضرورت محسوس کی۔یروشلم پوسٹ میں لکھتے ہوئے مائیکل فرائنڈ نے اس فیصلے کو’عجیب وغریب “قراردیا۔انہوں نے بتایاکہ اسپینی حکومت کی طرف سے اعلان کی ایک وجہ یہ ہے کہ وہ یہودیوں کی دولت کی خواہاں ہے اوراسی وجہ سے حکومت سپین ان یہودیوں کواپنے ہاں خوش آمدیدکہہ رہی ہے بالکل پرتگال کے سیاست دانوں کی مانند کہ جنہوں نے سپین کی حکومت کی طرح اسی قسم کے ایک قانون کامسودہ تحریرکیا تھاجس کے ذریعے پرتگال سے پانچ صدیاں قبل جلاوطن کیے گئے یہودیوں کی اولاد کوواپس پرتگال آنے کی اجازت کی بات کی گئی ہے ، انہوں نے اصرارکیاکہ اس معاملے میں مسلمانوں اوریہودیوں کے واقعات وحالات کے درمیان تقابل نہ کیاجائے۔

انٹینومینوئل روڈری گوائز راموس نے ایک وجہ مزیدبیان کی جس میں انہوں نے کہا کہ جولاکھوں مسلمان1600ء کی دہائی کے اوائل میں یہاں سے چلے گئے تھے،صرف وہی اس ملک میں جلاوطن کیے گئے مسلمانوں کی اولاد نہیں۔انہوں نے مزیدکہاکہ ان لوگوں کی اکثریت نے ملک نہیں چھوڑاجب انہیں جلاوطن ہونے کا حکم ملا تھا ۔انہوں نے یہیں قیام کیااورانہوں نے ایک ایسی تہذیب تخلیق کی جسے نہایت ہی مستنداورہسپانیہ کے قریب ترین قراردیاجاسکتاہے۔

اسپینی مسلمانوں کی اولاد کوواپسی کاحق دینے کے لیے اس سچائی پرروشنی ڈالنے میں مدد ملے گی کہ ا سپین میں بہت سے لوگ اس حقیقت کونظرانداز کرنے کی کوشش کریں گے۔انہوں نے کہا”خطرہ یہ ہے کہ ہمیں یہ تسلیم کرناہوگاکہ ا سپینی آبادی کی اکثریت کاتعلق مسلمانوں کی نسلوں سے ہے۔ورنہ سمجھا جائے گا کہ یہ ہماری تاریخ اورہمارے حافظے کوچھپانے کی کوشش ہے۔

اسپین کے مختلف شہروں جن میں غرناطہ ، قرطبہ ، سویا ، طرطوسہ ، اندلیسیا سر فہرست ہیں جہاں آج بھی مسلمانوں کے دور حکومت ، اور اس کے بعدمسلمانوں کو شکست ہونے اور دوسرے مذاہب کو جلا وطن کرنے کا حکم نامہ جاری کرنے کے بعد بھی کچھ تعداد میں مسلمان نسل در نسل آباد ہیں۔

متن لکھیں اور تلاش کریں
© sweb 2012 - All rights reserved.