تازہ ترین سرخیاں
 عالمی خبریں 
7 اکتوبر 2015
وقت اشاعت: 8:43

بھارت ،جہاں گائے کا گوشت کھانا ایک جرم بن گیا

جیو نیوز - کراچی.....شفیق احمد صدیقی.....نام نہادسیکولر ہونے کے دعوے دار بھارت کا سیکولرازم کا بت اس وقت پھر پاش پاش ہوگیا جب وہاں جنونی ہندووٴں کے ہاتھوں ایک 50سالہ مسلمان کی گائے ذبح کرنے اور اس کا گوشت کھانے کے الزام میں جان لے لی گئی۔ واقعے کے بعد بھارت بھر بالخصوص اترپردیش میں مسلمانوں میں شدید غم و غصہ اور اشتعال پھیل گیا۔

بھارت جہاں اقلیت محفوظ ہے نہ اکثریت، جہاں خون مسلم تو اتنا ارزاں ہے کہ کسی بھی بہانے بہادیا جاتا ہے اور کسی کے کان پر جوں تک نہیں رینگتی، ان گنت ہندو مسلم فسادات کے نام پر مسلم کشی کے واقعات میں معصوم مسلمانوں کی جانیں لی گئیں، باقاعدہ منصوبہ بندی کرکے مسلمانوں کی نسل کشی کی گئی تاہم انتہا پسند، متشدد اور جنونی ہندووٴں کی یہ بہیمانہ حرکات دو قومی نظرئیے کو مزید مضبوط کرنے کا سبب بنتی رہی ہیں۔

انتہا پسند ہندووٴں نے لوہار کا کام کرنے والے 50سالہ شخص محمد اخلاق کو تشدد کر کے مار ڈالا ،اس کے 22سالہ بیٹے کو شدید زخمی کردیا جبکہ بعض اطلاعات کے مطابق مقتول کی بیٹی کو بھی تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔

واقعہ پیش آیا بھارتی دارالحکومت نئی دہلی سے 45 کلو میٹر دور واقع ریاست اترپردیش کے ضلع دادری کے گاوٴں بسارا میں جہاں انتہا پسند ہندووٴں نے افواہیں پھیلائیں کہ 50سالہ محمد اخلاق نے اپنے گھر میں ناصرف گائے ذبح کی ہے بلکہ اس نے اور اس کے اہل خانہ نے گائے کا گوشت کھایا بھی ہے۔ پولیس کا کہنا تھا کہ مقامی مندر سے اس بات کا اعلان کیاگیا جس کے بعد 200سے زائد جنونی مسلح ہندووٴں نے اخلاق کے گھر پر حملہ کردیا۔

انتہا پسند 50سالہ محمد اخلاق اور ان کے 22سالہ بیٹے دانش کو تشدد کا نشانہ بناتے ہوئے گھر سے باہر لے آئے جہاں انہوں نے محمد اخلاق کو پتھر اور اینٹیں مار کر قتل جبکہ ان کے بیٹے دانش کو شدید زخمی کردیا۔ زخمی دانش کو تشویشناک حالت میں اسپتال لایا گیا اور وینٹی لیٹر پر رکھا گیا۔

مشتعل ہجوم نے گھر کی خواتین کو بھی نہیں بخشا اور ان سے بھی بدتمیزی کی۔ کچھ اطلاعات کے مطابق اخلاق کی جواں سالہ بیٹی بھی واقعے میں زخمی ہوئی۔ ادھر محمد اخلاق کی 18 سالہ بیٹی ساجدہ سیفی کا کہنا ہے کہ ان کے فریج میں گائے کا نہیں بلکہ بکرے کا گوشت تھا۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ واقعے سے قبل مندر میں اعلان ہوا کہ گائے کاٹی گئی ہے، یہ حرکت کرنے والے کو مار دو، جس کے بعد مشتعل ہندووٴں نے ان کے گھر پر حملہ کر دیا۔

مقتول کی بیٹی کے مطابق انتہا پسند جنونی ہندووٴں نے خواتین سے بدتمیزی کی، گالیاں دیں، گھر کے دروازے، کھڑکیاں اور دیگر سامان بھی توڑ دیا۔پولیس کا کہنا ہے کہ اخلاق کے قتل کے الزام میں 10 افراد کے خلاف مقدمہ درج کرکے ان میں سے 6 افراد کو گرفتار کرلیا ہے جبکہ محمد اخلاق کے گھر سے گوشت کے نمونے حاصل کرکے فرانزک ڈپارٹمنٹ کو بھجوا دیئے ہیں تاکہ معلوم کیا جاسکے کہ آیا گوشت گائے کا تھا یا بکرے کا۔

بہیمانہ واقعے کے بعد دادری سمیت پورے اترپردیش میں ہندو مسلم کشیدگی میں اضافہ ہو گیا۔ دوسری جانب کانگریس سمیت اپوزیشن جماعتوں کا واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہنا ہے کہ اس کی ذمہ داری بی جے پی اور سنگھ پریوار پر عائد ہوتی ہے جبکہ یو پی حکومت نے واقعے کی تحقیقات کا حکم دیدیا ہے۔

اتر پردیش کے وزیر برائے اقلیتی بہبود اور سماج وادی پارٹی کے سینئر رہنما محمد اعظم خان نے بابری مسجد سانحہ کے بعد داری کے واقعے کو انتہا پسند ہندووٴں کی ایک بڑی سازش قرار دیتے ہوئے کہاکہ وہ اس معاملے کو اقوام متحدہ میں لے جائیں گے۔

اعظم خان نے پریس کانفرنس میں کہاکہ ایسے واقعات کے ذریعے بھارت کو ہندو معاشرہ بنانے کی سازش ہورہی ہے، اس لیے ان کی مجبوری ہے کہ وہ اس واقعے کو اقوام متحدہ لے جائیں۔اعظم خان نے بتایا کہ انہوں نے اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل بان کی مون سے ملاقات کا وقت مانگاہے ، جن سے مل کر وہ بھارت میں رہنے والے 20کروڑ سے زائد مسلمانوں کی انتہائی ناگفتہ بہ حالت زار اور ان پر ڈھائے جانے والے مظالم سے متعلق آگاہ کریں گے۔

بھارت کی 5ریاستوں گجرات، راجستھان، چھتیس گڑھ، مہاراشٹر اور ہریانہ میں جین مت کے ایک میلے کے موقع پربھی گائے ذبح کرنے اور اس کے گوشت کی فروخت پر پابندی عائد ہوچکی ہے۔ بھارتی وزیر داخلہ اور انتہا پسند ہندوجماعت بی جے پی کے رہنما راج ناتھ سنگھ نے بھی انتہا پسند جذبات کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھاکہ حکومت پورے ملک میں گائے کے ذبح پر پابندی لگانے کی کوششیں کر رہی ہے۔

وزیر داخلہ کایہ بھی کہنا تھا کہ مغل حکمرانوں نے اپنے 200 سالہ دور حکومت میں ہندو آبادی کے جذبات کا خیال رکھا اورگائے ذبح کرنے کی اجازت نہ دی۔ شہنشاہ بابر نے اپنی وصیت میں لکھا ہے کہ ہم یا توگوشت کھا سکتے تھے یا لوگوں کے دل جیت کران پر حکومت کرسکتے تھے چنانچہ ہم نے لوگوں کے دل جیتے۔ انہوں نے کہا کہ گائے ہمارے لیے مقدس جانور ہے جسے تحفظ دینے کی اشد ضرورت ہے۔

دوسری طرف مقبوضہ جموں و کشمیر کی سپریم کورٹ نے ریاست میں گائے کے گوشت کی فروخت پر پابندی معطل کردی، یہ پابندی 2ماہ کیلئے معطل کی گئی ہے۔ واضح رہے کہ مقبوضہ کشمیر کی ہائی کورٹ نے گائے کے گوشت کی فروخت پر پابندی عائد کی تھی جس پر مسلمانوں میں شدید غم وغصہ تھا اور احتجاج کا سلسلہ بھی جاری تھا، مقبوضہ کشمیر کی اسمبلی کے اجلاس کے دوران اپوزیشن ارکان کی طرف سے گائے کے گوشت پر پابندی کے خلاف شدید احتجاج بھی کیا گیا تھا۔

اسمبلی میں مقبوضہ کانگریس اورنیشنل کانفرنس کے ارکان اسپیکر کے ڈائس کے سامنے جمع ہوئے اور گائے کے گوشت پر عائد پابندی کے خلاف شدید احتجاج کیا۔حکومتی ارکان نے احتجاج کرنے والے ارکان کو روکنے کی کوشش کی جس کے بعد ایوان مچھلی بازار بن گیا۔ ارکان نے حکومت سے گائے کے ذبیحہ اور گوشت کھانے پر عائد پابندی فوری طور پر ختم کرنے کا مطالبہ کیا۔ جس کے بعد سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر میں کے گائے کے گوشت کی فروخت پر پابندی کو دو ماہ کیلئے معطل کردیا۔

اْدھر جنتادَل پارٹی کے صدر لالو پرشادجن کے چٹکلے اور زور خطابت کے دوران جلسہ گاہ کو زعفران زار بنانے کے واقعات تو بے حد مشہور اور زبان زدِ عام ہیں تاہم ان کے اس بیان کہ ”گائے کا گوشت ہندو بھی کھاتے ہیں“کے بعد بھارت میں ایک نئے تنازع نے جنم لے لیا۔

لالو پرشاد یادیو نے ایک تقریب میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بی جے پی گائے کے گوشت کو ایشو بنا کر فرقہ ورانہ لڑائی کرانا چاہتی ہے حالانکہ گائے کا گوشت ہندو بھی کھاتے ہیں،اس پر پابندی کا فیصلہ درست نہیں۔

متن لکھیں اور تلاش کریں
© sweb 2012 - All rights reserved.