8 اکتوبر 2015
وقت اشاعت: 16:3
مودی سرکارکی ہندوتوا پالیسی کیخلاف بھارتی دانش ور سراپا احتجاج
جیو نیوز - نئی دلی.......مودی سرکار کی ہندوتوا پالیسی کے خلاف بھارتی دانش ور کھل کر میدان میں آ گئے ہیں اور انھوں نے اپنے سرکاری ایوارڈ دھڑا دھڑ واپس کرنا شروع کر دیے ہیں۔ ان میں جواہر لال نہرو کی بھانجی نین تارا سہگل اور ہندی کے ادیب اُدے پرکاش بھی شامل ہیں۔
مودی سرکار کو بھارت پر مسلط ہوئے سترہ ماہ ہو چکے ہیں، لیکن یہ سترہ ماہ بھارت کے جمہوریت پسند اور سیکولر حلقوں کے لیے کسی عذاب سے کم ثابت نہیں ہوئے۔ ہندو انتہاپسندوں، بی جے پی اور شیو سینا کی جانب سے جگہ جگہ آزادی رائے پر قدغن لگائی گئی۔
کرناٹک کے مشہور ادیب ملی شپا کل بُرگی ہندو انتہاپسندوں کے بڑے مخالف سمجھے جاتے تھے۔ رواں برس تیس اگست کو دو نامعلوم افراد نے انھیں ان کی قیام گاہ پر قتل کر دیا۔ اس کے بعد بھارت کے دانش ور حلقوں میں تشویش کی لہر دوڑ گئی۔ سب سے پہلے کنڑ زبان کے چھ ادیبوں نے اپنے ایوارڈ واپس کیے جس کا اعلان کنڑ ساہتیہ پریشد کے صدر نے کیا۔
اس کے بعد ہندی زبان کے معروف ادیب ادے پرکاش نے اپنا ساہتیہ ایوارڈ واپس کردیا اور کلبرگی کے قتل کا ذمہ دار ہندوتوا کی قوتوں کو قرار دیا۔ یوپی کے ضلع گوتم بدھ نگر میں گائے کا گوشت کھانے کی افواہ پر ایک مسلمان کے قتل نے مودی سرکار کے عزائم اور بھی واضح کر دیے۔
محمد اخلاق کے قتل کے بعد جواہر لال نہرو کی بھانجی اور ادیبہ نین تارا سہگل نے اپنا ساہتیہ ایوارڈ واپس کرتے ہوئے کہا کہ بھارت میں آج تک فاشسٹ حکومت نہیں آئی تھی مگر آج فاشسٹ نظریہ ہمارا حکم راں نظریہ ہے۔ ہندی کے معروف شاعر اشوک واجپائی نے بھی اپنے ایوارڈ واپس کر دیے۔
دونوں نے اس واقعے پر وزیراعظم مودی کی پراسرار خاموشی پر کڑی تنقید کی ہے اور کہا ہے کہ مودی اس قتل پر خاموش کیوں ہیں۔ وہ سامنے آ کر کیوں نہیں کہتے کہ بھارت میں ثقافتی رنگارنگی کا تحفظ کیا جائے گا۔ تازہ خبر کے مطابق اردو ناول نگار رحمان عباس نے بھی اپنا ساہتیہ ایوارڈ واپس کر دیا ہے اور اردو کے دیگر ادیبوں سے بھی کہا ہے کہ وہ ایسا ہی کریں۔