تازہ ترین سرخیاں
 عالمی خبریں 
15 اکتوبر 2015
وقت اشاعت: 9:33

پاکستان کے جوہری پروگرام پر امریکی رویہ نرم تھا، بھارتی میڈیا

جیو نیوز - کراچی......رفیق مانگٹ......امریکا نے پاکستان کے جوہری پروگرام پر نرم رویہ اپناتے ہوئے پانچ فی صد تک جوہری مواد کی افزودگی کی اجازت دی تھی۔سابق امریکی صدر ریگن نے اس سلسلے میں پاکستان کے سابق صدر ضیاء کو تعریفی خط بھی لکھا۔ اس وقت امریکا کی ترجیح افغان جنگ تھی پاکستان کا جوہری پروگرام نہیں۔ان خیالات کا اظہار بھارٹی میڈیا رپورٹس میں کیا گیا ہے۔

رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ امریکا کو خطرہ تھا کہ افغان جنگ کے ایک اہم موڑ پر کسی بھی قسم کی کارروائی دو طرفہ تعلقات کو خراب کردے گی۔رپورٹ کے مطابق دستاویزات کو افشاء اس وقت کیا گیا جب اوباما انتظامیہ پاکستان کے ساتھ سول جوہری معاہدے پر غور کرنے جا رہی ہے۔

قومی سلامتی کی محفوظ شدہ دستاویزات (این ایس اے) کہتی ہیں کہ ریگن انتظامیہ میں پاکستان کی بڑھتی ہوئی ایٹمی صلاحیت کی طرف پالیسی پر ایک بحث ہوئی تھی جس کے نتیجے میں امریکی صدر ریگن نے پاکستان کے اس وقت کے صد ر ضیاء الحق کو خط لکھا جو اس سے پہلے شائع نہیں ہوا تھا۔ خط میں کہا گیا تھا کہ جوہری افزودگی کو کم سطح پانچ فی صد تک رکھا جائے۔

ریگن کے خط پربراہ راست عدم تعمیل کی صورت میں پاکستان کے لئے امریکی امداد کم کرنے کا کوئی خدشہ ظاہر نہیں کیاگیا۔ امریکا کے لئے 1980 ءکی افغان جنگ پاکستان کے جوہری پروگرام سے زیادہ اہم تھی۔ ریگن اور اس کے سب مشیر کسی بھی قسم کی کارروائی سے پاکستان کے کردار کو خطرے میں نہیں ڈالنا چاہتے تھے۔

12 ستمبر1984ء کو اپنے خط میں ریگن نے ضیا ء الحق کوایک تعریفی خط لکھا تھاکہ انہوں نے 5فیصد افزودگی کی یقین دہانی کرائی ہے۔

متن لکھیں اور تلاش کریں
© sweb 2012 - All rights reserved.