تازہ ترین سرخیاں
 عالمی خبریں 
15 اکتوبر 2015
وقت اشاعت: 9:49

افغانستان سے امریکی فوج کے انخلاء کا عمل رکنے کا امکان

جیو نیوز - کراچی......رفیق مانگٹ......افغانستان سے امریکی فوج کے انخلاء کا عمل رکنے کا امکان واضح ہوگیا ہے۔ وائٹ ہاوٴس پر بڑھتے دباوٴ کے ساتھ ہی اوباما انتظامیہ فوج کے انخلاء کے فیصلے پر نظر ثانی پر غور کرنے لگی۔طالبان کی حا لیہ پیش رفت نے امریکی ایوانوں کو افغان جنگ سے انخلاکے فیصلے کو بدلنے پر مجبور کردیاہے۔

امریکی اخبار” نیویارک ٹائمز“ کے مطابق افغانستان سے امریکی افواج کے انخلاء کو مکمل طور پر روکنے یا اسے سست کرنے کیلئے وائٹ ہاوٴس پر بڑھتے دباوٴ نے امریکی صدر اوباما کو قائل کرلیا ہے کہ وہ افغانستان میں زیادہ فوج رکھیں جو القاعدہ اور داعش کے عسکریت پسندوں کے خلاف بھرپور کارروائی کر سکیں۔

صدر اوباما چاہتے تھے کہ وہ عہد ہ صدارت سے سبکدوش ہونے سے قبل ہی افغان جنگ سے تمام امریکی فوج کو واپس بلا لیں ۔ وہ صرف کابل میں امریکی سفارت خانے کی حفاظت کیلئے فوجیوں کی معمولی تعداد رکھنے کے حامی تھے، انہوں نے باقاعدہ اس کا اعلان کیا تھا کہ افغانستان میں امریکی جنگ کا خاتمہ ہوگیا ہے لیکن طالبان کی حالیہ حملوں اور قبضوں نے واشنگٹن میں پینٹاگون کے ساتھ کانگریس اور نیشنل سیکورٹی اسٹیبلشمنٹ کو قائل کیا کہ افغانستان میں امریکی فوجیوں کی موجودگی ضروری ہے۔

اقوام متحدہ کے مطابق افغانستان میں عسکریت پسند 2001 کے بعد سے اب زیادہ پھیل رہے ہیں اور گزشتہ ماہ صرف چند سو جنگجووٴں نے قندوز کے شہر پر قبضہ کر لیا۔ القاعدہ اب بھی افغانستان کے پہاڑوں میں پناہ گاہیں تلاش کر رہی ہے۔داعش طالبان سے الگ ہونے والے جنگجووٴں کو اپنے ساتھ شامل کرکے اپنی جگہ بنا رہی ہے۔

اس صورت حال نے وائٹ ہاوٴس کو سوچنے پرمجبور کردیا کہ افغانستان میں انسداد دہشت گردی فورس رکھنے کی ضرورت ہے تاہم اس کی تعداد کے متعلق فیصلہ ہونا باقی ہے۔اوباما انتظامیہ میں یہ بحث جاری ہے کہ امریکی فوجیوں کو افغان فورسز کی تربیت جاری رکھنا چا ہیے۔

افغانستان میں مشن کو وسیع کرنے کے حامی چاہتے ہیں کہ 2017 کے بعد امریکا اور اس کے نیٹو اتحادی کم از کم دو سے تین بیسز رکھیں جن سے وہ ڈرون اور اسپیشل آپریشن فورسز کے ذریعے عسکریت پسندوں کے خلاف آسانی سے کارروائی کی جاسکے۔ سینٹرل انٹیلی جنس ایجنسی بھی افغانستان میں اپنے اثاثوں کی حفاظت میں مددکے لئے ایک بڑی موجودگی چاہتی ہے۔

حکام کے مطابق پینٹاگون نے تجویز دی تھی کہ کابل میں امریکی سفارت کاروں کی حفاظت کیلئے ایک ہزار فوجی موجود رہیں۔ اس وقت افغانستان میں 9800 امریکی فوجی ہیں ۔امریکی فوجیوں سمیت مجموعی نیٹو فورسز کی تعداد17ہزار ہے۔ا س کے باوجود طالبان نے 2001کے بعد پہلی بار قندوز پر قبضہ کرلیا۔

فوج کے علاوہ امریکا کی خارجہ پالیسی اور قومی سلامتی کا ایک طاقتور حلقہ افغانستان میں فوج کی موجودگی پر زور دے رہا ہے۔ تھنک ٹینک اٹلانٹک کونسل کی طرف سے ایک رپورٹ جاری کی جارہی ہے جس میں واضح کہا گیا ہے کہ امریکہ اور نیٹو فوج افغانستان میں موجود رہیں۔

اس رپورٹ کا سب سے حیران کن پہلو یہ ہے کہ اس پر دستخط کرنے والے، ڈیموکریٹس اور ریپبلکن کے 20 سے زائد سابق سینئر عہدیداران ہیں۔

متن لکھیں اور تلاش کریں
© sweb 2012 - All rights reserved.