22 دسمبر 2014
وقت اشاعت: 9:27
اسٹیٹ بینک نے مالی سال 14-2013 کی سالانہ رپورٹ جاری کردی
جیو نیوز - اسلام آباد ....... اسٹیٹ بینک نے مالی سال 14-2013 کی سالانہ رپورٹ جاری کردی ہے، جس کے مطابق ٹیکس پالیسی کے مطلوبہ نتائج سامنے نہیں آسکے ہیں، حکومت کو ٹیکس کا دائرہ کار بڑھانے اور وصولی کے نظام کو موثر بنانا ہوگا۔ اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے مالی سال 14-2013 میں پاکستانی معیشت سے متعلق رپورٹ جاری کردی ہے، جس کے مطابق گزشتہ مالی سال براہ راست اور بالواسطہ ٹیکس کی مد میں 22 کھرب 66 ارب روپے کی وصولی ہوئی ہے، جو کہ ٹیکس وصولی کے مطلوبہ ہدف کو دو مرتبہ کم کرنے کے باوجود 9 ارب روپے کم ہے، مرکزی بینک کے مطابق ایف بی آر کو ٹیکس نظام میں موجود خامیوں کو دور کرنا ضروری ہے۔ دوسری جانب وفاق اور صوبے عوامی ترقیاتی منصوبوں پر اخراجات میں ناکام رہے اور بجٹ میں مختص کردہ رقم کے مقابلے 290 ارب روپے کم خرچ کیے گئے۔ ایک رپورٹ کے مطابق حکومت اضافی اخراجات سے بچنے کیلئے گردشی قرضوں کے خاتمے سے بھی قاصر رہی، اسٹیٹ بینک کی سالانہ رپورٹ میں قابل ذکر بات یہ ہے کہ ملک کے زرمبادلہ کے ذخائر، ترسیلات زر اور نجی شعبے کو جاری قرضوں میں بہتری آئی ہے، ساتھ ہی ساتھ مالیاتی خسارہ 5.5 فیصد رہا جو کہ طے کردہ ہدف اور گزشتہ تین سال کے مقابلے میں خاصہ کم رہا۔