21 جنوری 2015
وقت اشاعت: 13:50
پیٹرول بحران کے ذمے داروں کے خلاف کیا کارروائی ہوئی؟
جیو نیوز - لاہور........ پیٹرول بحران کے ذمے داروں کے خلاف کیا کارروائی ہوئی؟ پٹرول کے بحران کی وجہ کیا تھی، ذمہ دار کون ہے ، کیا کارروائی ہوئی، عوام کو سروکار نہیں ، انہیں تو بس پٹرول چاہیئے۔ اس بحران میں ایک دوسرے پر انگلیاں اٹھائی گئیں تو کوئی وضاحتیں دیے جا رہا ہے۔پٹرول کے بحران پر چند وزراء نے تو حکومت کی ناکامی کا اعتراف بھی کرلیا اور شرمندگی کا اظہار بھی کیا ۔ اس بحران کا جس وزارت سے براہ راست تعلق نظر آتا ہے ، اس کے وفاقی وزیر اپنوں کے چلائے ہوئے نشتر برداشت نہیں کر پا رہے۔ بعض حلقے یہ بھی کہتے ہیں کہ وزارت خزانہ نے بر وقت پیسے جاری نہیں کیے ، اس لیے پٹرول بحران پیدا ہوا تاہم وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار کہتے ہیں کہ ایک ایک ادائیگی بروقت کی گئی۔ رواں مالی سال کے لیے بجلی کی سبسڈی مختص تھی 180 ارب روپے۔ سات ماہ میں 139 ارب روپے جاری ہو چکے جو اس عرصے کے دوران 24 ارب روپے سے زائد ادا ہو چکی۔ صرف جنوری کے پہلے 19 دنوں میں 37 ارب روپے جاری کیے گئے ۔ بجلی گھروں کےلیے قرضوں کے سلسلے میں مئی میں 31ارب اور دسمبر میں 25 ارب روپے کی بنک گارنٹی بھی منظور کی گئی۔ پٹرول کا بحران ابھی ٹلا نہیں اور بجلی کا بحران سروں پہ منڈلانا شروع ہو گیا ہے،، وجہ یہ ہے کہ فرنس آئل کا ذخیرہ تقریباً 5 دن کا رہ گیا ہے اور آج کل زیادہ تر بجلی تو بن ہی فرنس آئل سے رہی ہے۔ وزارت پانی و بجلی نے 27 ارب روپے مانگے ہیں اور اس رقم کی ادائیگی فروری کے پہلے ہفتے میں کی جانا ہے ، اب جنوری کے آخری چند دن اندھیرا ہو گا یا اجالا ، فی الحال حکومتی حلقے خاموش ہیں ۔