12 اپریل 2011
وقت اشاعت: 21:13
موٹاپے کو کم کرنے کیلئے نئی دوا تیار
پیرس: موٹاپے کو کم کرنے کیلئے دو ادویات کو ملا کر ایک نئی دوا تیار کی گئی ہے جس کے نتائج خاطر خواہ کامیاب رہے ہیں۔ ان ادویات کو طبی ماہرین نے لمبے عرصے تک بطور علاج استعمال کرنے کی اجازت دے دی ہے۔ فینٹر مائین اور ”ٹوپیرا میٹ“ کیمیاوی اجزاء کو ملا کر تیار کی جانے والی دوا کو ”ٹوپامیکس“ کے برانڈ نام سے متعارف کرایا گیا ہے۔ اس دوا کے کلینیکل تجربات سے ثابت ہوا ہے کہ منہ کے ذریعے یہ دوا زیادہ فائدہ مند ثابت ہوتی ہے۔ یہ دوا بعض ممالک میں کمرشل سطح پر ”زینی کال“ یا ”آلی“ کے نام سے متعارف کرائی گئی ہے۔
ان ادویات کے دیگر فوائد میں بلڈپریشر کو نارمل رکھنا، شوگر کی سطح کو کنٹرول کرنا، سوزش کو کم کرنا بھی شامل ہے۔ یاد رہے کہ فینٹر مائین نامی اجزاء کو امریکہ میں وزن کم کرنے کیلئے مختصر عرصہ کی دوا کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے جبکہ دوسرے کیمیاوی جزو ٹوپیرا میٹ کو سینررڈس آرڈر اور مائیگرین کے درد کو کم کرنے کیلئے بھی استعمال کیا جاتا ہے۔ یہ جزو ذیابیطس کے مریضوں میں وزن بڑھنے کے رجحان کو بھی کنٹرول کرتا ہے۔ اس کے علاوہ تخلیقی صلاحیتوں میں کمی اور ذہنی امراض کے مضر اثرات کو بھی اس سے روکے جانے کے شواہد ملے ہیں۔
ڈیوک یونیورسٹی میڈیکل سنٹر کے پروفیسر کیشور کیڈی نے اس دوا سے 20 ماہ تک 2500 موٹے افراد پر تجربات مکمل کئے۔ ان مریضوں کو 3 گروپوں میں تقسیم کیا گیا، پہلے گروپ کو دن میں ایک مرتبہ دوا، دوسرے گروپ کو دو مرتبہ اور تیسرے گروپ کو بغیر دوا کے ایک مخصوص ماحول میں رکھا گیا۔ 56 ہفتوں بعد دن میں دو مرتبہ دوا استعمال کرنے والے مریضوں کا وزن سب سے زیادہ کم ہوتا نظر آیا۔