تازہ ترین سرخیاں
 دلچسپ خبریں 
1 مئی 2011
وقت اشاعت: 11:29

بلوچستان کے نوے ہزار سے زائد کان کنوں کی حالت زار

کوئٹہ ( مصطفی ترین ) بلوچستان کی کوئلہ کانوں میں نوے ہزار سے زائد کان کن غیر محفوظ حالات میں کام کر کے بچوں کا پیٹ پال رہے ہیں۔ عالمی یوم مزدور کے موقع پر بلوچستان کے کان کنوں کے مسائل پر کوئٹہ سے اے آروائی نیوز کے نمائندے مصطفی خان ترین اپنی اس رپورٹ میں روشنی ڈال رہے ہیں۔



شکا گو کے مزدور آٹھ گھنٹے کام ، آٹھ گھنٹے آرام اور آٹھ گھنٹے تفریح کا مطالبہ تسلیم کروا کر دنیا بھر کے مزدوروں کو اپنے حقوق حاصل کرنے کا سبق دے گئے۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا نے آج کا دن مزدور کے نام کیا ہے ،لیکن وطن عزیز پاکستان میں آج مزدور جس بدحالی کاشکار ہے اس کی چھوٹی سی مثال کوئلے کی کانوں میں کام کرنے والے مزدور ہیں صرف بلوچستان میں نوے ہزار سے زائد مزدور بظاہر کوئلہ کانوں اور حقیقت میں موت کے کنووں میں کام کرکے اپنے بچوں کا پیٹ پال رہے ہیں۔



کوئٹہ،ہرنائی ،لورلائی ،بولان اور دیگر اضلاع میں واقع کوئلہ کانوں میں کام کرنے والے ان نوے ہزار مزدوروں میں سے ایک کی زندگی بھی محفوظ نہیں،اس امر کا اظہار سرکاری حکام بھی کھلے عام کرتے ہیں کہ کان کن پسینہ بہاکر سرمایہ داروں کا سرمایہ تو بڑھاتے آرہے ہیں لیکن ان کی زندگی کے تحفظ کے لئے خاطر خواہ اقدامات آج تک نہیں ہوسکے ۔



کوئٹہ کے قریب سورینج کے مقام پرپی ایم ڈی سی کی کوئلہ کان میں آج سے صرف ڈیڑھ ماہ قبل تینتالیس مزدروں کی جانیں لینے والا افسوسناک واقعہ ان تمام دعووں کی قلعی کھولتا ہے جو مزدوروں کے تحفظ کے حوالے سے کئے جاتے رہے ہیں ۔عالمی یوم مزدور اس امر کا متقاضی ہے کہ کانکنوں کو دی جانے والی مراعات میں اضافے کے لئے فوری اقدامات کئے جائیں ۔

متن لکھیں اور تلاش کریں
© sweb 2012 - All rights reserved.