2 مئی 2011
وقت اشاعت: 9:34
اسامہ بن لادن کی زندگی کے سفرپر ایک نظر
کراچی: القاعدہ کے سربراہ اسامہ بن لادن امریکی اسپیشل فورسز کے آپریشن میں جاں بحق ہوگئے۔ اسامہ بن لادن دس مارچ انیس سو ستاون میں سعودی عرب کے شہر ریاض میں پیدا ہوئے۔ ان کا تعلق سعودی عرب کی صاحب ثروت بن لادن فیملی سے تھا۔ انہوں نے ریاض کی کنگ عبد العزیز یونیورسٹی سے ایم بی اے کی ڈگری حاصل کی۔ اسامہ کے والد محمد بن لادن نے بائیس شادیاں کیں جن سے ان کے تریپن بچے ہیں اسامہ بن لادن نے شروع میں ایک عرب شہزادے کی سی زندگی گذاری۔
انیس سو اناسی میں افغانستان پر سوویت یونین کے داخل ہونے کے بعد انہوں نے افغان مجاہدین کی مالی معاونت کی کچھ عرصے بعد وہ براہ راست سوویت یونین کیخلاف لڑائی میں حصہ لینے افغانستان پہنچ گئے اسامہ بن لادن نے شیخ عبداللہ عظائم اور دیگر عرب مجاہدین کے ساتھ ملکر سوویت فوجیوں کیساتھ جنگ کی افغانستان سے سوویت یونین کے انخلاء کے بعد مجاہدین کی آپس کی لڑائیوں سے مایوس ہوکر اسامہ بن لادن سعودی عرب واپس گئے امریکی فوج کو سعودی عرب میں اترنے کی اجازت دینے پر اسامہ کے شاہی خاندان سے اختلافات پیدا ہوگئے اور انیس سو اکیانوے میں سوڈان چلے گئے۔ مگر انہیں پانچ چھ سال بعد وہاں سے نکال دیا گیا۔ جس کے بعد وہ افغانستان واپس آگئے۔
انیس سواکیانوے میں عراق پر امریکی حملے نے ان پر گہرے اثرات مرتب کئے۔ افغانستان سے روس کی شکست کے بعد انہوں نے امریکہ کے خلاف جہاد کا اعلان کیا۔ وہ جہادی تنظیم القاعدہ کے بانی تھے۔ اس زمانے میں افغانستان میں طالبان حکومت قائم ہوئی۔ انہوں نے طالبان کے حلقوں میں اپنا اثر رسوخ بڑھایا۔ امریکی حکام کا کہنا ہے کہ اسامہ بن لادن ورلڈ ٹریڈ سینٹر، سعودی عرب میں امریکیوں پر حملے، کینیا اور تنزانیہ میں امریکی سفارتخانوں پر حملے، یمن میں امریکی بیڑے پر دھماکے، نائن الیون میں ٹوئن ٹاور پر حملوں اور امریکہ کے خلاف ہونے والی دیگر کارروائیوں میں ملوث تھے۔ ان حملوں میں امریکیوں سمیت ہزاروں افراد مارے گئے۔
امریکہ نے ان کی گرفتاری یا ہلاکت پر ان پر پچاس ملین ڈالر انعام کا اعلان کیا۔ اسامہ بن لادن دوہزار ایک میں نیویارک میں ٹوئن ٹاور پر حملوں کے بعد سے روپوش تھے۔ وہ افغانستان کے پہاڑی علاقے تورا بورا میں امریکی فورسز کے آپریشن میں بچ نکلنے میں کامیاب ہوگئے تھے۔ جس کے بعد ان کے بارے میں اطلاعات کم ہی آتی تھیں۔ مگر کچھ وقتوں کے بعد میڈیا میں ان کی ویڈیو اور آڈیو ٹیپ منظر عام پر آنا شروع ہوئے۔
اسامہ بن لادن کا دنیا سے آخری رابطہ 2004 میں امریکی انتخابات کے دوران ایک ویڈیو ٹیپ کے ذریعے ہوا تھا جو عر بی زبان کے ایک سٹیلائٹ چینل الجزیرہ نے نشر کیا اسامہ بن لادن نے تیں شادیاں کیں اور انکی 24 یا 25 اولادیں ہیں۔ انکے خاندان کے زیادہ تر افراد سعودی عرب میں رہائش پزیر ہیں اسامہ کے ایک صاحب زادے ایک ہسپانوی دوشیزہ سے شادی کے بعد اسپین میں سیاسی پناہ حاصل کرچکے ہیں
اسامہ بن لادن مسلسل اپنی جگہ تبدیل کرتے رہے۔ یکم او دو مئی دوہزار گیارہ کی شب پاکستان کے علاقے ایبٹ آباد میں امریکی اسپیشل فورسز کے ساتھ فائرنگ کےتبادلے میں جاں بحق ہوگئے۔