10 اکتوبر 2015
وقت اشاعت: 14:3
سگریٹ نوشی پر اب ہوگا جرمانہ، سگریٹ کے ٹوٹوں سے مچی ہلچل
کراچی......ساجد انصاری......سگریٹ پینا صحت کے لیے نقصان دہ ہے۔ یہ بات کون نہیں جانتا لیکن باوجود اس کے لوگ خوشی خوشی اس مضر صحت چیز کو اپنے ہوٹوں تک لاکر اپنی خرابی صحت کے ساتھ ساتھ ماحولیاتی آلودگی کا بھی باعث بنتے ہیں۔
ترقی یافتہ ممالک میں اس مسئلہ کو ایک نئے انداز سے اجاگر کیا گیا ہے۔ فرانسیسی دارالحکومت پیرس میں سگریٹ نوشی ’بد تہذیبی‘ اور آلودگی کاسبب قرار دی گئی ہے اور اسی کے پیش نظر وہاں اس کے خلاف کریک ڈاوٴن میں تیزی آ گئی ہے اوراب پیرس کی گلیوں میں سگریٹ کے ٹوٹے پھینکنے والے سگریٹ نوشوں کو 65 کی بجائے68یوروجرمانے کے طور پر ادا کرنا ہوں گے۔ پیرس میں ہر سال سگریٹوں کے 350 ٹن وزن کے ٹوٹے اکٹھے کیے جاتے ہیں۔
پیرس کے میئرکا کہنا ہے کہ ”آنکھوں کو نظر آنے والی ’آلودگی‘ سے قطعِ نظر سگریٹوں کے یہ ٹوٹے ماحول کو بھی آلودہ کرتے ہیں۔ ان کے اندر بہت سے زہریلے مادے ہوتے ہیں، جو ہوا اور زمین کو آلودہ کرتے ہیں۔“
عالمی ادارہ صحت کی ایک رپورٹ کے مطابق فرانس کی 25فیصد آبادی تمباکو نوشوں پر مشتمل ہے جو مغربی یورپ کے کسی بھی دوسرے ملک سے زیادہ ہے لیکن مشرقی یورپی ممالک اسپین اور یونان سے کم ہے۔
ایک تحقیق کے مطابق مشاہدہ میں آیا ہے کہ سگریٹ کا ایک ٹوٹا پانی کی پانچ سو لیٹر سے زیادہ مقدار کو آلودہ کر سکتا ہے۔ سگریٹ کے ٹوٹوں کو مختلف اجزا میں ٹوٹ کر بکھرنے اور تحلیل ہونے میں چار سے لے کر بارہ سال تک کا عرصہ لگ جاتا ہے اور یہ کہ ان اجزا میں بھاری دھاتوں کے ساتھ ساتھ نکوٹین اور سیسے جیسے آلودگی کا باعث بننے والے اجزا بھی ہوتے ہیں۔
دنیا کے باقی ممالک کی طرح سگریٹ نوشوں کی بڑی تعداد پاکستان سے بھی تعلق رکھتی ہے۔ اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی جاری کردہ ایک جائزہ رپورٹ کے مطابق گزشتہ مالی سال میں پاکستانیوں نے اپنے سرمائے میں سے 250 بلین کی خطیر رقم سے64بلین سگریٹ خریدے۔
اس انتہائی خطرناک اور مضرصحت بیماری کو سامنے رکھتے ہوئے فرانس کی حکومت نے پیرس شہر میں کوڑے کرکٹ کے ایسے30 ہزار ڈبے نصب کیے گئے ہیں جن میں سگریٹ بجھانے کے لیے الگ سے ایک کونا بنا ہوا ہے۔
یہاں یہ بات بھی قابل ستائش ہے کہ سیاحوں کی جانب سے پیدا کردہ اس ماحولیاتی آلودگی کی روک تھام کے لئے ریسٹورنٹ یونین کی جانب سے پندرہ ہزار جیبی ایش ٹرے بھی تقسیم کیے گئے۔ اس طرح کے ایک ایش ٹرے میں پانچ ٹوٹے محفوظ کیے جا سکتے ہیں۔
برطانیہ میں نیشنل ہیلتھ ایجنسی کے جاری کردہ اعداد وشمار کے مطابق تمباکو نوشی برطانیہ میں سالانہ بنیادوں پر 80 ہزار اموات کی وجہ ہے۔ برطانیہ میں ہر پانچ میں سے تقریباایک بالغ تمباکو نوش ہے۔
پاکستان میں پھیپھڑوں کے سرطان کے90 فیصد مریضوں کا براہ راست تعلق سگریٹ نوشی سے ہے۔ مقامی سطح پر مرتب کی گئی جائزہ رپورٹ کے مطابق پاکستان میں 46 فیصد مرداور 5.7 فیصد خواتین سگریٹ نوشی کرتی ہیں۔
ای سگریٹ کا استعمال
الیکٹرانک سگریٹس یعنی ای سگریٹ ایک ایسا الیکٹرانک آلہ ہے جس کی مدد سے نکوٹین والا دھواں سونگھا یا پیا جا سکتا ہے۔برطانوی محکمہ صحت کی ایک ایجنسی نے اپنی تازہ تحقیق کے نتائج جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ ای سگریٹس کی تشہیر کی جانی چاہیے کیونکہ اس کی مدد سے عام سگریٹ پینے والوں کو تمباکو نوشی ترک کرنے کی ترغیب دی جا سکتی ہے۔
اس سلسلے میں کی جانے والی ایک اور تحقیق کے شامل کے گئے اعداد وشمار کے مطابق برطانیہ میں 2.6 ملین بالغ ایسے افراد ای سگریٹ کا استعمال کرتے ہیں جو ماضی میں عام سگریٹ پیتے تھے۔ ان افراد کی کوشش ہے کہ وہ تمباکو نوشی کی عادت چھوڑ دیں۔ بتایا گیا ہے کہ برطانیہ میں صرف دو فیصد جوان افراد ای سگریٹوں کے باقاعدہ صارف ہیں۔
امریکا میں کی گئی ایک تحقیق کے نتائج کے مطابق جو نوجوان ای سگریٹ استعمال کرتے ہیں ان میں اس بات کے امکانات زیادہ پائے جاتے ہیں کہ وہ عام سگریٹ پینا شروع کر سکتے ہیں۔