تازہ ترین سرخیاں
 صحت 
19 دسمبر 2014
وقت اشاعت: 6:23

ایڈز سے بچاؤ اور بیماری سے متعلق آگاہی پھیلانے کا عالمی دن

کوئٹہ...........آج جب پاکستان سمیت دنیا بھرمیں ایڈز سے بچاؤ اور اُس کے بارے میں آگہی پھیلانے کا عالمی دن منایاجارہاہے۔ کوئٹہ سمیت صوبہ بلوچستان کے سرکاری اسپتالوں میں اِس جان لیو ا مرض کی تشخیص کا کوئی بندوبست نہیں۔ بلوچستان کی صوبائی حکومت کےصحت کے شعبے میں بہتری کے دعووں کے بارے میں اور اگر یہ کہا جائے کہ یہ دعوے محض دعوے ہی ہیں تو غلط نہیں ہوگا، اس کا اندازہ صوبے کے سرکاری اسپتالوں میں مریضوں کے لئے سہولتوں کی عدم فراہمی سے خوب لگایاجاسکتاہے،اہم بات یہ ہے کہ ان اسپتالوں میں موذی اور جان لیوا امراض کی تشخیص کاکوئی بندوبست ہی نہیں ہے۔ یہی صورتحال ہے ایڈز کے مرض کی تشخیص کی،جس کی کٹس ہی سرکاری اسپتالوں میں دستیاب نہیں،اس میں صوبے کے دو سب سے بڑے سرکاری اسپتال یعنی صوبائی سنڈیمن ہیڈکوارٹر یعنی سول اسپتال کوئٹہ اور بولان میڈیکل کمپلیکس اسپتال بھی شامل ہیں۔صورتحال کااندازہ مریضوں اور ان کے تیمار داروں کو درپیش مسائل سے لگاسکتے ہیں۔ سول اسپتال کی یہ حالت ہے کہ سی پی سی کا ٹیسٹ بھی یہاں نہیں ہوتا، باہر سے کروا رہے ہیں، ڈاکٹر لیبارٹری بھیجتا ہے یہ باہر بھیجتے ہیں۔ کوئٹہ کےسرکاری اسپتالوں کےذرائع کے مطابق ایڈز کےمرض کی تشخیص کےلئے ضروری کٹس اس سال مارچ کے بعد سے مہیا ہی نہیں کی گئیں،جب کوئٹہ کےسرکاری اسپتالوں میں ایڈز کی تشخیص کی کٹس دستیاب نہ ہوں تو اندرون صوبہ کیا صورتحال ہوگی؟ اس سے صورتحال کے تشویشناک ہونے کا اندازہ بخوبی لگایاجاسکتاہے،یہاں یہ بات بھی قابل زکر ہے کہ کوئٹہ میں رپورٹ ہونےوالے ایڈز کے مریضوں کی تعداد 250تک پہنچ گئی ہے ،جبکہ مکران کےعلاقوں سے تربت میں رپورٹ ہونےوالے کیسز کی تعداد 120ہوچکی ہے۔ 2011ء کےبعد سے کوئٹہ سمیت صوبہ بھر میں ایڈز کے سلسلے میں کوئی باقاعدہ سروے نہیں کیاگیا، اس صورتحال پر جب متعلقہ حکام سے جاننے کے کی کوشش کی گئی تو ان کا محض یہ کہنا تھا یہ مسائل جلد حل کرلئے جائیں گے۔

متن لکھیں اور تلاش کریں
© sweb 2012 - All rights reserved.