25 فروری 2011
وقت اشاعت: 11:21
’تیرے بن لادن‘ کا نام تبدیل
بی بی سی اردو - پاکستانی گلوکار علی ظفر کی بالی وڈ فلم ’تیرے بن لادن ‘ کا نام تبدیل کردیا گیا ہے اور اب اسے ’تیرے بن‘ کے نام سے ریلیز کیا جائے گا۔
علی ظفر کے مطابق اس فلم کا نام صرف پاکستان میں تبدیل کیا جا رہا ہے۔
بالی ووڈ میں بنائی گئی اس فلم کے ڈائریکٹر اور مصنف ابھیشک شرما ہیں، جبکہ علی ظفر اس میں مرکزی کردار ادا کر رہے ہیں، جو بطور اداکار اُن کی پہلی فلم ہے۔
یہ فلم سولہ جولائی کو پاکستان کے مختلف شہروں کے تقریباً پندرہ سینما گھروں میں نمائش کے لیے پیش ہوگی۔
ممبئی سے ٹیلیفون پر بی بی سی کے نامہ نگار ریاض سہیل سے بات کرتے ہوئے علی ظفر نے بتایا ’پاکستان اور اس کے حالات کو دیکھتے ہوئے انہوں نے اس فلم کا نام تبدیل کرنے کا فیصلہ کیا ہے تاکہ کوئی غلط فہمی پیدا نہ ہو‘۔
علی ظفر کا کہنا ہے کہ ’فلم میں ایسی کوئی چیز نہیں جس سے کسی کی دل آزاری ہوتی ہو یا کسی کے نظریات کو ٹھیس پہنچتی ہو، یہ ایک پرو پاکستانی فلم ہے جس میں نائین الیون کے واقعہ کے بعد جس طرح پاکستانیوں اور مسلمانوں کے ساتھ پوری دنیا میں جو متعصبانہ رویہ روا رکھا گیا تھا اس پر ہلکے مزاحیہ انداز میں تبصرہ کیا گیا گیا ہے‘۔
فلم ’تیرے بن لادن‘ کی پاکستان آمد سے قبل اس کے ایک گیت ’الو دا پٹھا‘ کو مقامی ایف ایم ریڈیو اسٹیشنوں پر چلانے پر پابندی عائد ہوچکی ہے۔
علی ظفر کے مطابق ’اس مصرع پر حکام نے اعتراض کیا ہے حالانکہ یہ الفاظ گالی کے زمرے میں نہیں آتے بلکہ اس کا مطلب تو یہ ہے کہ الو کا شاگرد، معلوم نہیں اس پر کیوں اعتراض کیا گیا جبکہ اس سے قبل کمینے نامی ایک فلم ریلیز کی جا چکی ہے‘۔
یاد رہے کہ فلم تیرے بن لادن میں علی ظفر ایک پاکستانی صحافی کا کردار ادا کر رہے ہیں جو امریکہ جاکر فوکس نیوز اور سی این این جیسے کسی بڑے نشریاتی ادارے میں کام کرنے کا خواہش مند ہے مگر ہر بار امریکی سفارتخانہ اس کے ویزہ کی درخواست مسترد کردیتا ہے۔
اس کے بعد اس صحافی کی ملاقات القاعدہ کے سربراہ اسامہ بن لادن کے ایک ہم شکل سے ہوتی ہے، جس کی مدد سے وہ جعلی ویڈیو پیغام بناکر نشریاتی اداروں کو فروخت کرتا ہے اور راتوں رات مشہور ہوجاتا ہے۔ مگر امریکی ادارے اس کے پیچھے پڑ جاتے ہیں۔