24 نومبر 2014
وقت اشاعت: 19:17
بھارتی سپریم کورٹ نے اسپاٹ فکسنگ رپورٹ درست تسلیم کرلی
جیو نیوز - نئی دہلی......بھارتی سپریم کورٹ نے آئی پی ایل اسپاٹ فکسنگ کیس میں جسٹس مڈگل کمیشن کی رپورٹ کی درست تسلیم کرلیا،عدالت کا کہناہے کہ اسپاٹ فکسنگ سےکھیل کی ساکھ متاثر ہوئی لیکن سزا کھیل کو نہیں بلکہ ملوث افراد کو ملنا چاہیے، بھارتی سپریم کورٹ میں آئی پی ایل اسپاٹ فکسنگ کیس کی سماعت ہوئی جس میں مدگل کمیشن رپورٹ پر بحث ہوئی ،اس رپورٹ میں بھارتی کرکٹ بورڈ کے سربراہ سری نواسن انکے داماد گروناتھ میاپن ،اورراجستھان رائلز کے مالک راج کندرا سمیت کئی اہم نام شامل ہیں ،جو آئی پی ایل اسپاٹ فکسنگ میں ملوث ہوسکتے ہیں ۔عدالت نے مڈگل کمیشن رپورٹ کو درست تسلیم کرلیااور بھارتی بورڈ کے سربراہ این سری نواسن کو بھی سخت تنقید کا نشانہ بنایا۔بھارتی سپریم کورٹ کا کہنا تھا کہ ایک شخص بورڈ کا سربراہ ہونے کے ساتھ ساتھ آئی پی ایل ٹیم کا مالک کیسے ہوسکتا ہے ،سری نواسن آئی پی ایل اسکنڈل کے وقت بی سی سی آئی کے سربراہ اور چنئی سپرکنگز کے مالک بھی تھے ،عدالت نے یہ بھی کہا کہ اگر اسپاٹ فکسنگ سے کھیل کی ساکھ ضرور متاثر ہوئی لیکن سزا کھیل کے بجائے ان لوگوں کو ملنا چاہیے جو جنہوں نے اسے خراب کیا ہے ۔